حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 63
63 چونکہ میں یقین دل سے جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی تائید کا یہ ایک بڑا نشان ہے تا وہ مخالف کو شرمندہ اور لا جواب کرے۔اس لئے میں اس نشان کو دس ہزار روپیہا انعام کے ساتھ مولوی ثناء اللہ امرتسری اور اس کے مددگاروں کے سامنے پیش کرتا ہوں۔“ اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۴۶) اور فرمایا۔اگر اس تاریخ سے یہ قصیدہ اور اردو عبارت ان کے پاس پہنچے چودہ دن تک اسی قدر اشعار بلیغ و فصیح جو اس قدر مقدار اور تعداد سے کم نہ ہوں شائع کر دیں تو دس ہزار روپیہ ان کو انعام دوں گا۔ان کو اختیار ہوگا کہ مولوی محمد حسین صاحب کی مدد لیں یا کسی اور صاحب کی مدد لیں۔اور نیز اس وجہ سے بھی ان کو کوشش کرنی چاہئے کہ میرے ایک اشتہار میں پیشگوئی کے طور پر خبر دی گئی ہے کہ اخیر دسمبر ۱۹۰۲ء تک کوئی خارق عادت نشان ظاہر ہوگا اور گوہ نشان اور صورتوں میں بھی ظاہر ہو گیا ہے لیکن اگر مولوی ثناء اللہ اور دوسرے مخاطبین نے اس میعاد کے اندر اس قصیدہ اور اس اردو مضمون کا جوب نہ لکھایا نہ لکھوایا تو یہ نشان ان کے ذریعہ سے پورا ہو جائے گا۔“ اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۴۷) حضرت اقدس نے اس کتاب کے آخر پر دس ہزار روپیہ کے انعام کا ایک اشتہار بھی شائع فرمایا جس میں آپ نے چودہ دن کی بجائے ہیں دن کی مہلت کر دی اور فرمایا:۔یہ رسالہ ان تمام صاحبوں کی خدمت میں جو اس قصیدہ میں مخاطب ہیں بذریعہ رجسٹری روانہ کر دوں گا۔۱۸-۱۷ - ۱۹/ نومبر ۱۹۰۲ ء۔ان دنوں تک بہر حال اُن کے پاس جابجا یہ قصیدہ پہنچ جائیگا۔اب اُن کی میعاد ۲۰ نومبر سے شروع ہوگی۔پس اس طرح پر دس دسمبر ۱۹۰۲ ء تک اس میعاد کا خاتمہ ہو جائیگا۔پھر اگر ہیں