حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 64
64 دن میں جو دسمبر ۱۹۰۲ء کی دسویں کے دن کا شام تک ختم ہو جائے گی۔اُنہوں نے اس قصیدہ اور اُردو مضمون کا جواب چھاپ کر شائع کر دیا تو یوں سمجھو کہ میں نیست و نابود ہو گیا اور میرا سلسلہ باطل ہو گیا۔اس صورت میں میری تمام جماعت کو چاہئے کہ مجھے چھوڑ دیں اور قطع تعلق کریں۔لیکن اگر اب بھی مخالفوں نے عمداً کنارہ کشی کی۔تو نہ صرف دس ہزار روپے کے انعام سے محروم رہیں گے۔بلکہ دس لعنتیں اُن کا ازلی حصہ ہوگا۔اور اس انعام میں سے ثناء اللہ کو پانچہزار ملے گا۔اور باقی پانچ کو اگر فتحیاب ہو گئے ایک ایک ہزار ملے گا۔“ والسلام عَلَى مِنَ اتبعُ الهُدَى خاکسار میرزاغلام احمد قادیانی (اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۱۹اصفحہ ۲۰۵) ایک عظیم پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس چیلنج کے علاوہ بطور پیشگوئی یہ بھی تحریر فرمایا کہ۔”دیکھو میں آسمان اور زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ آج کی تاریخ سے اس نشان پر حصر رکھتا ہوں۔اگر میں صادق ہوں اور خدا جانتا ہے کہ میں صادق ہوں تو کبھی ممکن نہ ہوگا کہ مولوی ثناء اللہ اور ان کے تمام مولوی پانچ دن میں ایسا قصیدہ بنا سکیں۔اور اردو مضمون کا رڈ لکھ سکیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ ان کی قلموں کو توڑ دے گا اور ان کے دلوں کو غیبی کر دے گا۔“ اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۴۸) اسی طرح عربی قصیدہ میں آپ فرماتے ہیں:۔فان اک كاذبا فياتي بمثلها و ان اک من ربی فیغشی و یثبر