حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 49 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 49

49 کرنے سے حدیث کے کچھ معنی نہیں رہتے۔لہذا عربی لغت کے اعتبار سے بھی مولوی صاحب کے معنی سراسر باطل اور نا قابل قبول ہیں۔۳۔مولوی صاحب کے بیان کردہ معنوں کے مطابق قیامت سے پہلے پہلے رمی جمار کے اجر و ثواب کا کسی کو بھی علم نہیں ہوسکتا۔صرف قیامت کے روز ہی رمی جمار کے ثواب کا پتہ چلے گا۔اس سے پہلے کسی کو بھی رمی جمار کے ثواب کا علم نہیں ہوسکتا۔حالانکہ کئی ایسی احادیث ملتی ہیں جن میں رمی جمار کا ثواب بتایا گیا ہے جن میں سے صرف تین کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ا تَجِدُ ذَلِكَ عِنْدَ رَبِّكَ أَحْوَجَ مَا تَكُونُ إِلَيْهِ۔یعنی جب تو رمی جمار کرے تو اپنے رب کے پاس اس چیز کو پائے گا جس کی تم کو سب سے زیادہ حاجت ہوگی۔٢ أَمَّا رَمُيُكَ الْحِمَارُ فَلَكَ بِكُلِّ حَصَاةٍ رَمَيْتَهَا تَكْفِيرُ كَبِيرَةٍ مِّنَ الْمُوْبِقَاتِ ترجمہ۔تیرے رمی جمار کرنے پر تیرے لئے ہر کنکر کے بدلے جسے تو نے پھینکا ہو ایک کبیرہ مہلک گناہ کی مغفرت ہوگی۔٣۔إِذَا رَمَيْتَ الْحِمَارَ كَانَ لَكَ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ترجمہ۔کہ جب تو رمی جمار کرے تو تیرے لئے قیامت کے دن نور ہوگا۔مندرجہ بالا تینوں احادیث میں خود آنحضرت ﷺ نے رمی جمار کرنے والے کا ثواب واجر بیان کر دیا ہے۔پس ان احادیث کی روشنی میں زیر بحث حدیث کے الفاظ لا یدی احد مالہ یوم القیامۃ سے مراد ایسے شخص کے حق میں یہ بنتا ہے کہ ایسے شخص کو نعمت کا علم تو ہو جائے گا کہ اس کے گناہ کبیرہ معاف ہوں گے یا اس کی سب سے بڑی حاجت پوری ہوگی مگر اس ثواب کی پوری پوری کیفیت کا علم اسے قیامت کے روز ہی ہو سکے گا۔اس سے پہلے اس کا علم جزوی ہو گا مگر موت کے بعد قیامت کے روز اسے رمی جمار کا پورا پورا اعلم دے دیا جائے گا۔اس پہلو سے کوئی