حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 50 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 50

50 اعتراض باقی نہیں رہتا۔مولوی صاحب کی غلطی کی وجہ در اصل مولوی عنایت اللہ گجراتی صاحب کو حدیث کے لفظ قیامہ سے دھوکا لگا ہے جیسا کہ وہ خود تحریر فرماتے ہیں۔چونکہ اس حدیث میں بیان کردہ تو فی قیامت کو ہوگی اس لئے اس کا ترجمہ موت درست نہیں۔(کیل الموفی صفحہ ۵۷) حالانکہ لفظ قیامت بمعنی موت بھی استعمال ہوسکتا ہے۔خود رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِيَامَتُهُ (مجمع بحار الانوار) علامہ شیخ محمد طاہر سندھی مصنف ” مجمع بحارالانوار لفظ قیامت کے نیچے لکھتے ہیں۔وَقَدْ وَرَدَ فِي الْكُتُبِ وَالسُّنَّةِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامِ الْقِيَامَةُ الْكُبْرَى وَالْبَعْتُ لِلْجَزَاءِ وَالْوُسْطَى وَهِيَ اِنْقِرَاضُ الْقَرْنِ وَالصُّغُرَى وَهُوَ مَوْتُ الْإِنْسَان۔یعنی قرآن کریم اور حدیث سے قیامہ کے تین استعمال ثابت ہیں۔قیامت کبری جو جزا سزا کیلئے بعثت کے مفہوم میں استعمال ہوتی ہے۔اور قیامتہ وسطی جس سے مراد پہلی صدی کا خاتمہ ہے یعنی جب مسلمانوں میں تنزل کے آثار ہوں گے۔اور صغریٰ یعنی موت انسانی۔مندرجہ بالا حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ قیامہ کا لفظ موت کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔پس اگر زیر بحث حدیث میں قیامہ سے مراد قیامت صغری لی جائے تو درج ذیل مفہوم بنتا ہے۔”دنیا کی زندگی میں رمی جمار کے ثواب کا علم کسی کو نہیں ہوسکتا۔ہاں جب قیامت