حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 411
411 کتاب کا مقابلہ کرنا چاہے گا۔تو وہ ذلیل ہوگا۔میں ہر ایک متکبر کو اختیار دیتا ہوں کہ اسی عربی مکتوب کے مقابل پر طبع آزمائی کرے۔اگر وہ اس عربی کے مکتوب کے مقابل پر کوئی رسالہ بالتزام مقدار نظم و نثر بنا سکے اور ایک مادری زبان والا جوعربی ہو قسم کھا کر اس کی تصدیق کر سکے تو میں کاذب ہوں۔دوم۔اور اگر یہ نشان منظور نہ ہو۔تو میرے مخالف کسی سورۃ قرآنی کی بالمقابل تفسیر بنا دیں یعنی رو برو ایک جگہ بیٹھ کر بطور فال قرآن شریف کھولا جاوے۔اور پہلی سات آیتیں جو نکلیں ان کی تفسیر میں بھی عربی میں لکھوں اور میرا مخالف بھی لکھے۔پھر اگر میں حقائق معارف کے بیان کرنے میں صریح غالب نہ رہوں تو پھر بھی میں جھوٹا ہوں۔سوم۔اور اگر یہ نشان بھی منظور نہ ہو تو ایک سال تک کوئی مولوی نامی مخالفوں میں سے میرے پاس رہے۔مگر اس عرصہ میں انسان کی طاقت سے برتر کوئی نشان مجھ سے ظاہر نہ ہو تو ایک سال تک کوئی مولوی نامی مخالفوں میں سے میرے پاس رہے۔مگر اس عرصہ میں انسان کی طاقت سے برتر کوئی نشان مجھ سے ظاہر نہ ہو تو پھر بھی میں جھوٹا ہوں گا۔چہارم۔اور اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو ایک تجویز یہ ہے کہ بعض نامی مخالف اشتہار دے دیں کہ اس تاریخ کے بعد ایک سال تک اگر کوئی نشان ظاہر ہو تو ہم تو بہ کریں گے اور مصدق ہو جائیں گے۔پس اس اشتہار کے بعد اگر ایک سال تک مجھ سے کوئی نشان ظاہر نہ ہوا۔جو انسانی طاقتوں سے بالا تر ہو خواہ پیشگوئی ہو یا اور تو میں اقرار کروں گا کہ میں جھوٹا ہوں۔پنجم۔اور اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو شیخ محمد حسین بطالوی اور دوسرے نامی مخالف مجھ سے مباہلہ کر لیں۔پس اگر مباہلہ کے بعد میری بد دعا کے اثر سے ایک بھی خالی رہا تو میں اقرار کروں گا۔کہ میں جھوٹا ہوں یہ طریق فیصلہ ہیں جو میں نے پیش کئے ہیں۔اور میں ہر ایک کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اب سچے دل سے ان