حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 412
412 طریقوں میں سے کسی طریق کو قبول کریں۔ششم اور اگر ان باتوں میں سے کوئی بھی نہ کریں تو مجھ سے اور میری جماعت سے سات سال تک اس طور سے صلح کر لیں کہ تکفیر اور تکذیب اور بدزبانی سے منہ بند رکھیں۔اور ہر ایک کو محبت اور اخلاق سے ملیں اور قہر الہی سے ڈر کر ملاقاتوں میں سے مسلمانوں کی عادت کے طور پر پیش آویں۔ہر ایک قسم کی شرارت اور خباثت کو چھوڑ دیں۔پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعہ سے ظہور میں نہ آوے یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جن سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے۔اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کا ذب خیال کرلوں گا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم۔جلدا اصفحه ۳۰۴ تا ۳۱۹) عربی دانی قر آنی حقائق و معارف، قبولیت دعا اور اخبار غیبیہ میں مقابلہ کی دعوت "اگر یہ سوال پیش ہو کہ تمہارے حکم ہونے کا ثبوت کیا ہے؟ اس کا یہ جواب ہے کہ جس زمانہ کیلئے حکم آنا چاہئے تھا وہ زمانہ موجود ہے۔اور جس قوم کی صلیبی غلطیوں کی حکم نے اصلاح کرنی تھی وہ قوم موجود ہے۔اور جن نشانوں نے اس حکم پر گواہی دینی تھی وہ نشان ظہور میں آچکے ہیں۔اور اب بھی نشانوں کا سلسلہ شروع ہے۔آسمان نشان ظاہر کر رہا ہے۔زمین نشان ظاہر کر رہی ہے اور مبارک وہ جن کی آنکھیں اب