حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 400
400 تمام عیسائیوں کو نشان نمائی اور قبولیت دعا میں مقابلہ کی دعوت ”سواگر عیسائیوں کا یہ خیال ہے کہ کفارہ سے پاک ایمان اور پاک زندگی ملتی ہے تو ان کا فرض ہے کہ وہ اب میدان میں آئیں اور دعا کے قبول ہونے اور نشانوں کے ظہور میں میرے ساتھ مقابلہ کر لیں۔اگر آسمانی نشانوں کے ساتھ ان کی زندگی پاک ثابت ہو جائے تو میں ہر ایک سزا کا مستوجب ہوں اور ہر ایک ذلت کا سزاوار ہوں“ ( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۴۳) امتہ التکفیر کو تائید الہی فیض سماوی اور آسمانی نشانوں میں مقابلہ کی دعوت (۵) پانچویں علامت اس عاجز کے صدق کی یہ ہے کہ مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ میں ان مسلمانوں پر بھی اپنے کشفی اور الہامی علوم میں غالب ہوں۔ان کے ملہموں کو چاہئے کہ میرے مقابل پر آویں۔پھر اگر تائید الہی میں اور فیض سماوی میں اور آسمانی نشانوں میں مجھ پر غالب ہو جائیں تو جس کا رد سے چاہیں مجھ کو ذبح کر دیں مجھے منظور ہے۔اور اگر مقابلہ کی طاقت نہ ہو تو کفر کے فتوے دینے والے جو الہاماً میرے مخاطب ہیں یعنے جن کو مخاطب ہونے کیلئے الہام الہی مجھ کو ہو گیا ہے پہلے لکھ دیں اور شائع کرا دیں کہ اگر کوئی خارق عادت امر دیکھیں تو بلا چون و چرا دعوی کو منظور کر لیں۔میں اس کام کیلئے بھی حاضر ہوں اور میرا خدا وند کریم میرے ساتھ ہے لیکن مجھے یہ حکم ہے کہ میں ایسا مقابلہ صرف ائمۃ الکفر سے کروں۔انہیں سے مباہلہ کروں اور انہیں سے اگر وہ چاہیں یہ مقابلہ کروں۔مگر یا درکھنا چاہئے کہ وہ ہرگز مقابلہ نہیں کریں گئے“ آئینہ کمالات اسلام - روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۴۸)