حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 21
21 اگر مسیح ابن مریم کی حیات طریقہ مذکورہ بالا سے جو واقعات صحیحہ کے معلوم کرنے کیلئے ہیں خیر الطرق ہے ثابت ہو جائے تو میں اپنے الہام سے دست بردار ہو جاؤں گا۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ قرآن کریم سے مخالف ہو کر کوئی الہام صحیح نہیں ٹھہرتا۔پس کچھ ضرور نہیں کہ میرے مسیح موعود ہونے میں الگ بحث کی جائے۔بلکہ میں حلفاً اقرار کرتا ہوں کہ اگر میں ایسی بحث وفات عیسی میں غلطی پر نکلا تو دوسرا دعویٰ خود چھوڑ دوں گا اور ان تمام نشانوں کی پروا نہیں کروں گا جو میرے اس دعوے کے مصدق ہیں۔کیونکہ قرآن کریم سے بڑھ کر کوئی حجت نہیں۔وَمَا عِنْدَنَا شَيْءٌ إِلَّا كِتَابَ اللهِ وَإِنْ أَنْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى لِلَّهِ وَالرَّسُوْلِ۔فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُوْنَ میں ایک ہفتہ تک اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد حضرات موصوفہ کے جواب باصواب کا انتظار کروں گا۔اور اگر وہ شرائط مذکورہ بالا کو منظور کر کے مجھے طلب کریں تو جس جگہ چاہیں حاضر ہو جاؤں گا۔والسلام علی من اتبع الھدی۔اور کتاب ازالہ اوہام کے خریداروں پر واضح ہو کہ میں بلی ماروں کے بازار میں کوٹھی لوہارو والی میں فروکش ہوں اور ازالہ اوہام کی جلدیں میرے پاس موجود ہیں۔جو صاحب تین روپیہ قیمت داخل کریں وہ خرید سکتے ہیں۔güns خاکسار غلام احمد قادیان حال وارد دهلی بازار بلیما راں کوٹھی نواب لوہارو۔۲/اکتوبر ۱۸۹۱ء مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۲۳۴ تا ۲۳۶)