حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 396
396 اور آریوں کو توہین مذہب کے لئے برانگیختہ کیا ہے ورنہ یہ بیچارے نہایت سلیم المزاج اور اسلام کی نسبت خاموش تھے بے ادبی اور تو ہیں نہیں کرتے تھے اور نہ گالیاں نکالتے تھے تو آؤ ایک جلسہ کرو پھر اگر یہ ثابت ہو کہ زیادتی ہماری طرف سے ہے اور ابتداء سے ہم ہی محرک ہوئے اور ہم نے ہی ان لوگوں کے بزرگوں کو ابتداء گالیاں دیں تو ہم ہر ایک سزا کے سزاوار ہیں لیکن اگر اسلام کے دشمنوں کا ہی ظلم ثابت ہو تو ایسے خبیث طبع مولویوں کو کسی قد رسزا دینا ضروری ہے جو ہماری عداوت کیلئے اسلام کو درندوں کے آگے پھینکتے ہیں ہر یک امر کی حقیقت تحقیقات کے بعد کھلتی ہے اگر سچے ہیں تو ایک جلسہ کریں پھر اگر ہم کا ذب نکلیں تو بیشک ہندوؤں اور عیسائیوں کی تائید میں ہماری کتابیں جلا دیں۔“ آریہ دھرم۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۱۰۸) منشی الہی بخش کو دو طریق پر فیصلہ کی دعوت حافظ محمد یوسف ضلعدار نہر نے بہت سے لوگوں کے پاس مولوی عبداللہ غزنوی کے ایک کشف کا ذکر کیا کہ ”مولوی عبداللہ غزنوی صاحب نے خواب میں دیکھا کہ اک نور آسمان سے قادیان پر گرا اور فرمایا کہ میری اولاد اس نور سے محروم رہ گئی۔“ یہی بیان حافظ صاحب نے دیگر لوگوں کے پاس ذکر کرنے کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی بالمشافہ بتایا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے معاند الہی بخش اکاؤنٹینٹ جو مولوی عبداللہ غزنوی کا مرید تھا کی گرفت کرتے ہوئے درج ذیل چیلنج دیا۔فرمایا۔اب کس قدر اندھیر کی بات ہے کہ مرشد خدا سے الہام پا کر میری تصدیق کرتا ہے اور مرید مجھے کا فرٹھیرا اتا ہے۔کیا یہ سخت فتہ نہیں ہے؟ کیا ضروری نہیں کہ اس فتنہ کوکسی تدبیر سے درمیان سے اٹھایا جائے ؟ اور وہ یہ طریق ہے کہ اول ہم اس بزرگ کو