حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 381
381 یہ ہوگا کہ میرے مقابل پر ایک معزز پادری صاحب جو پادری صاحبان مندرجہ ذیل میں سے منتخب کئے جائیں۔میدان مقابلہ کیلئے جو تراضی طرفین سے مقرر کیا جائے تیار ہوں۔پھر بعد اس کے ہم دونوں معہ اپنی اپنی جماعتوں کے میدان مقررہ میں حاضر ہو جائیں اور خدا تعالیٰ سے دعا کے ساتھ یہ فیصلہ چاہیں کہ ہم دونوں میں سے جو شخص در حقیقت خدا تعالیٰ کی نظر میں کا ذب اور مور د غضب ہے۔خدا تعالیٰ ایک سال میں اس کا ذب پر وہ قہر نازل کرے جو اپنی غیرت کے رو سے ہمیشہ کا ذب اور مکذب قوموں پر کیا کرتا ہے۔جیسا کہ اس نے فرعون پر کیا۔نمرود پر کیا۔اور نوح کی قوم پر کیا۔اور یہود پر کیا۔حضرات پادری صاحبان یہ بات یاد رکھیں کہ اس باہمی دعا میں کسی خاص فریق پر نہ لعنت ہے نہ بددعا ہے۔بلکہ اس جھوٹے کو سزا دلانے کی غرض سے ہے جو اپنے جھوٹ کو چھوڑ نا نہیں چاہتا۔ایک جہان کے زندہ ہونے کیلئے ایک کا مرنا بہتر ہے۔نوٹ۔ان صاحبوں میں سے کوئی منتخب ہونا چاہئے۔اول ڈاکٹر مارٹن کلارک۔دوسرے پادری عمادالدین پھر پادری ٹھا کر داس۔یا حسام الدین بمبئی یا صفدر علی بھنڈارہ یا طامس باول یا فتح مسیح بشرط منظوری دیگران انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۴۰ ) کسی پادری یا عیسائی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذکورہ بالا چیلنجوں کو قبول کرنے کی تویق نہ مل سکی۔شیعہ حضرات کو مباہلہ کا چیلنج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۹۴ء میں فصیح و بلیغ عربی زبان میں ”سرالخلافہ کتاب تصنیف فرمائی۔اس کتاب میں آپ نے مسئلہ خلافت پر جو اہل سنت اور شیعوں میں صدیوں