حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 19 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 19

19 کثرت رائے پر فیصلہ کیا جائے گا۔اگر آپ تشریف لاتے تو ہم آپ کے اخراجات اور حفظ امن کیلئے سرکاری انتظام کے بھی ذمہ دار ہوتے۔مولوی رشید احمد صاحب نے لکھا کہ انتظام کا میں ذمہ دار نہیں ہوسکتا۔اس پر ان کو دو تین خطوط لکھے گئے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سفر د ہلی اس کے بعد حضور لدھیانہ سے قادیان تشریف لے گئے۔جب پنجاب کے علماء ایسے مباحثہ کیلئے تیار نہ ہوئے جس سے عامتہ الناس حق و باطل میں امتیاز کرسکیں تو حضور نے دہلی جانے کا ارادہ ظاہر فرمایا کیونکہ دبلی اس وقت علم دین کے لحاظ سے ایک علمی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا اور وہاں مولوی نذیرحسین صاحب جو علماء اہلحدیث کے استاد اور شیخ الکل کہلاتے تھے اور شمس العلماء مولوی عبدالحق صاحب مولف تفسیر حقانی وغیرہ علماء رہتے تھے۔آپ نے خیال فرمایا کہ شاید وہاں اتمام حجت اور عام لوگوں کو حق معلوم کرنے کا موقع مل جائے۔اس لئے آپ قادیان سے لدھیانہ تشریف لے گئے جہاں ایک ہفتہ قیام فرما کر اپنے مخلص اصحاب سمیت عازم دہلی ہوئے اور کوٹھی نواب لوہارو بازار بلی ماراں میں قیام فرما ہوئے۔اور ۲ /اکتوبر ۱۸۹۱ء کو آپ نے ایک اشتہار بعنوان ذیل شائع کیا۔مولوی نذیرحسین صاحب دہلوی اور مولوی محمد عبد الحق صاحب کو مباحثہ کی دعوت ایک عاجز مسافر کا اشتہار قابل توجہ جمیع مسلمانان انصاف شعار و حضرت علماء نامدار اگر حضرت سید مولوی محمد نذیرحسین صاحب یا جناب مولوی محمد عبد الحق صاحب مسئلہ وفات مسیح میں مجھے مخفی خیال کرتے ہیں یا ملحد اور ماً ول تصور فرماتے ہیں اور میرے قول کو خلاف قال الله قال الرسول گمان کرتے ہیں تو حضرت موصوف پر فرض ہے کہ