حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 370
370 ہوئے لکھا کہ:۔”ہمارے بعض واجب الاحترام بزرگوں نے اپنی تمامتر صلاحیتوں سے قادیانیت کا مقابلہ کیا لیکن یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ قادیانی جماعت پہلے سے زیادہ مستحکم اور وسیع ہوتی گئی۔مرزا صاحب کے بالمقابل جن لوگوں نے کام کیا ان میں اکثر تقوی تعلق باللہ دیانت خلوص علم اور اثر کے اعتبار سے پہاڑوں جیسی شخصیتیں رکھتے تھے۔سید نذیر حسین دہلوی، مولانا انور شاہ صاحب دیوبندی، مولانا قاضی سید سلیمان منصور پوری، مولانا محمد حسین بٹالوی، مولانا عبدالجبار غزنوی، مولانا ثناء اللہ امرتسری اور دوسرے اکابر رحمہم اللہ وغفرھم کے بارے میں ہمارا حسن ظن یہی ہے کہ یہ بزرگ قادیانیت کی مخالفت میں مخلص تھے اور ان کا اثر رسوخ بھی اتنا زیادہ تھا کہ مسلمانوں میں بہت کم ایسے اشخاص ہوئے ہیں جو ان کے ہم پایہ ہوں۔اگر چہ یہ الفاظ سننے اور پڑھنے والوں کیلئے تکلیف دہ ہوں گے اور قادیانی اخبار اور رسائل چند دن انہیں اپنی تائید میں پیش کر کے خوش ہوتے رہیں گے لیکن ہم اس کے باوجود اس تلخ نوائی پر مجبور ہیں کہ ان اکابر کی تمام کاوشوں کے باوجود قادیانی جماعت میں اضافہ ہوا ہے۔متحدہ ہندوستان میں قادیانی بڑھتے رہے۔تقسیم کے بعد اس گروہ نے پاکستان میں نہ صرف پاؤں جمائے بلکہ جہاں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا وہاں ان کا یہ حال ہے کہ ایک طرف تو روس اور امریکہ سے سرکاری سطح پر آنے والے سائنسدان ربوہ آتے ہیں اور دوسری طرف ۵۳ ء کے عظیم تر ہنگامہ کے باوجود قادیانی جماعت اس کوشش میں ہے کہ اسکا ۱۹۵۶،۵۷ء کا بجٹ پچیس لاکھ روپیہ کا ہو۔“ المنبر لائل پور ۲۳ فروری ۱۹۶۵ء) یہ گواہی ۱۹۶۵ء کی ہے اور آج اللہ کے فضل سے جماعت احمدیہ کا قدم بہت آگے ہے۔