حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 366
366 آپ کا کارڈ مرسلہ ۱۲ جون ۱۹۰۷ء حضرت مسیح موعود کی خدمت میں پہنچا جس میں آپ نے ۴ را پریل ۱۹۰۷ء کے بدر کا حوالہ دے کر جس میں قسم کھانے والا مباہلہ بعد حقیقۃ الوحی“ موقوف رکھا گیا ہے۔حقیقۃ الوحی کا ایک نسخہ مانگا۔اس کے جواب میں آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آپ کی طرف حقیقۃ الوحی بھیجنے کا ارادہ اس وقت ظاہر کیا گیا تھا جبکہ آپ کو مباہلہ کے واسطے لکھا گیا تھا۔(اب) مشیت ایزدی نے آپ کو دوسری راہ سے پکڑا اور حضرت حجتہ اللہ کے قلب میں آپ کے واسطے دعا کی تحریک کر کے فیصلہ کا ایک اور طریق اختیار کیا۔اس واسطے مباہلہ (سابقہ) کے ساتھ جو مشروط تھے وہ سب کے سب بوجہ نہ قرار پانے کے منسوخ ہوئے۔لہذا آپ کی طرف کتاب بھیجنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔پس اس تحریر سے بھی ثابت ہوا کہ آخری فیصلہ والا اشتہار مباہلہ نہیں بلکہ دعا ہے جس کے بعد کسی اور مباہلہ کی ضرورت ہی نہیں رہی۔“ محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۶۶۰ مطبوعہ ۱۹۱۷ء بار پنجم) جواب اخبار بدر ۱۲ جون ۱۹۰۷ ء کی مندرجہ بالا تحریر جناب حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے اپنے الفاظ ہیں نہ کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے۔لہذا ان کا وہ مفہوم لینا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصریحات بلکہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے اپنے بیانات کے بھی خلاف ہے درست نہیں۔اگر اسی مفہوم پر اصرار ہے تو جب اہلحدیث کسی صحابی بلکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تفسیر تک کو نہیں مانتے (اہلحدیث ۱٫۲ اکتوبر ۱۹۳۱ء) تو جماعت احمد یہ پر اس خود ساختہ مفہوم کی بنا پر کیونکر اعتراض کر سکتے ہیں۔بہر حال مولوی ثناء اللہ صاحب کا یہ عذر بھی تار عنکبوت سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔