حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 358 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 358

358 تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں۔تو کمال عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون وہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے رو برو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے تو بہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔آمین یا رب العالمین۔میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتارہا۔مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزرگئی۔وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بد زبانیوں میں آیت لا تقف مالیس لک به علم پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا۔اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا ہے کہ یہ شخص در حقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے۔سواگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بداثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ ان تهتموں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے ہاتھ سے بنائی ہے۔اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما۔اور جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔یا کسی اور سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔آمین ثم آمین۔ربنا افتح بيننا و بين قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔آمین۔