حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 359
359 بالآ خر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔الراقم - عبد اللہ الصمد میرزا غلام احمد مسیح موعود عافاه الله واید۔مرقومه ۱۵ را پریل ۱۹۰۷ء یکم ربیع الاول ۱۳۲۵ھ حضرت اقدس کی اس دعائے مباہلہ کو مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اپنے اخبار ۱/۲۶اپریل ۱۹۰۷ء میں نقل کر کے اس کے نیچے سب سے پہلے تو اپنے نائب ایڈیٹر سے یہ لکھوایا کہ:۔آپ اس دعوی میں قرآن شریف کے صریح خلاف کہہ رہے ہیں۔قرآن تو کہتا ہے کہ بدکاروں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مہلت ملتی ہے سنو۔من كان في الضللة فليمدد له الرحمن مدا (مريم) (۷۶ وانا نملى لهم ليزدادوا اثما (آل عمران (۱۷۹) اور ویمدهم في طغيانهم يعمهون (بقره: ۱۶) آیات تمہارے اس دجل کی تکذیب کرتی ہیں اور سنو!إبــل متعنا هؤلاء وآباء هم حتى طال عليهم العمر - جن کے صاف یہی معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ جھوٹے دغا باز، مفسد اور نا فرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے تا کہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام کر لیں۔پھر تم کیسے من گھڑت اصول بتلاتے ہو کہ ایسے لوگوں کو بہت عمر نہیں ملتی۔کیوں نہ ہو دعوئی تو مسیح کرشن اور محمد احمد بلکہ خدائی کا ہے اور قرآن میں یہ لیاقت ذلك مبلغهم من العلم ( نائب ایڈیٹر ) اور اس تحریر کے متعلق بعد میں اہلحدیث ۳۱ جولائی ۱۹۰۷ء میں لکھا کہ میں اس کو صحیح جانتا 66 ہوں۔" اس کے بعد مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب نے خود حضرت اقدس کی تحریر دعائے مباہلہ کے نیچے اپنی تحریر دعائے مباہلہ درج کرنے کی بجائے لعن طعن، دشنام دہی ، بد زبانی دریدہ دہانی لغو گوئی