حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 356
356 تمیز کر دے گا۔امید ہے کہ اب مولوی ثناء اللہ کو اس خود تجویز کردہ مباہلہ سے گریز کی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت نہ محسوس ہوگی۔( بدر ۴ را پریل ۱۹۰۷ ء ) حضرت اقدس کی طرف سے حضرت مفتی صاحب کے اس جواب کے بعد مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب کی طرف سے ۱۲ اپریل اور ۱۹ / اپریل ۱۹۰۷ء کے پرچے جو یکجائی طور پر ۱۹ اپریل ۱۹۰۷ء کو شائع ہوئے ان میں مولوی صاحب نے پھر یہ لکھا کہ۔میں نے آپ کو مباہلہ کے لئے نہیں بلایا۔میں تو قسم کھانے پر آمادگی کی ہے مگر آپ اس کو مباہلہ کہتے ہیں۔حالانکہ مباہلہ اس کو کہتے ہیں کہ فریقین مقابلہ پر قسمیں کھائیں۔میں نے حلف اٹھانا کہا ہے۔مباہلہ نہیں کہا قسم اور ہے اور مباہلہ اور ہے۔(اہلحدیث ۱۹ اپریل ۱۹۰۷ ء ) جب مولوی صاحب کی اپنی تحریروں سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ آپ مباہلہ پر آمادگی تو ظاہر فرماتے جائیں گے مگر میدان مباہلہ میں کبھی نہیں آئیں گے تو حضرت اقدس نے حقیقۃ الوحی کی طباعت کا انتظار ضروری نہ سمجھتے ہوئے اپنی طرف سے ” مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ کے عنوان سے دعائے مباہلہ شائع کر دیا اور یہ چاہا کہ مولوی صاحب جوابا اس تحریر کے نیچے جو چاہیں اپنی طرف سے دعائے مباہلہ کے طور پر لکھ کر اپنے اخبار میں شائع کر دیں۔اقدس کی وہ دعا درج ذیل ہے۔مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب۔السلام علی من اتبع الهدی مدت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب و تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ہمیشہ مجھے آپ اپنے پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتری ہے۔میں نے آپ