حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 355 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 355

355 ”مرزائیو۔بچے ہو تو آؤ۔اور اپنے گرو کو بھی ساتھ لاؤ۔وہی عید گاہ امرتسر تیار ہے جہاں تم ایک زمانہ میں صوفی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ کر کے آسمانی ذلت اٹھا چکے ہو اور امرتسر نہیں تو بٹالہ میں آؤ۔سب کے سامنے کارروائی ہوگی۔مگر اس کے نتیجہ کی تفصیل اور تشریح کرشن قادیانی سے پہلے کرا دو۔اور انہیں ہمارے سامنے لاؤ۔جس نے ہمیں رسالہ انجام آتھم میں مباہلہ کے لئے دعوت دی ہوئی ہے۔“ (اہلحدیث ۲۹ مارچ ۱۹۰۷ء) مولوی ثناء اللہ صاحب کی مندرجہ بالا تحریرہ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے علم میں آئی تو حضور نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے اس کا جواب لکھنے کے لئے ارشاد فرمایا۔حضرت مفتی صاحب نے لکھا کہ۔اس مضمون کے جواب میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو بشارت دیتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب نے ان کے اس چیلنج کو منظور کر لیا ہے۔وہ بے شک قسم کھا کر بیان کریں کہ یہ شخص اپنے دعوی میں جھوٹا ہے اور بے شک یہ کہیں کہ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو لعنت اللہ علی الکاذبین۔اور اس کے علاوہ ان کو اختیار ہے کہ اپنے جھوٹے ہونے کی صورت میں ہلاکت وغیرہ کے جو عذاب اپنے لئے چاہیں مانگیں۔حضرت اقدس نے پھر بھی اس پر رحم کر کے فرمایا ہے کہ یہ مباہلہ چند روز کے بعد ہو جبکہ ہماری کتاب حقیقۃ الوحی چھپ کر شائع ہو جائے۔۔۔۔۔اس کتاب کے ساتھ ایک اشتہار بھی ہماری طرف سے ہوگا جس میں ہم یہ ظاہر کریں گے کہ ہم نے مولوی ثناء اللہ کے چیلنج کو منظور کر لیا ہے۔۔۔ہم ایمان رکھتے ہیں کہ اگر مولوی ثناء اللہ صاحب نے کوئی حیلہ جوئی کر کے اس مباہلہ کو اپنے سر سے نہ ٹال دیا تو پھر خدا تعالیٰ بالضرور مولوی مذکور کے متعلق کوئی ایسا نشان ظاہر کرے گا جو صدق و کذب کی پوری