حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 354
354 مرجائے تو ضرور وہ پہلے مرینگے ( اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۴۸) مولوی صاحب نے حضرت اقدس کی یہ کتاب شائع ہو جانے پر اپنے مباہلہ کیلئے تحریر لکھنے کا تو کوئی ذکر نہ کیا اور حضرت اقدس کی تحریر کے جواب میں صرف یہ لکھ دیا کہ۔چونکہ یہ خاکسار نہ واقع میں اور نہ آپ کی طرح نبی یا رسول یا ابن اللہ اس لئے ایسے مقابلہ کی جرات نہیں کر سکتا۔“ الہامات مرزا۔بار دوم صفحہ ۸۸ مطبوعہ ۱۹۰۴ء مطبع امرتسر ) لیکن باوجود اس کے کچھ مدت کے بعد مولوی صاحب نے پھر لکھا کہ:۔البته آيت ثانيه ( قـل تـعـالوا ندع ابناء نا ) پر عمل کرنے کے لئے ہم تیار ہیں۔میں اب بھی ایسے مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔جو آیت مرقومہ سے ثابت ہے جسے مرزا صاحب نے خود تسلیم کیا ہے۔“ (اہل حدیث ۲۳ جون ۱۹۰۴ء صفحه ۴) مولوی صاحب کی اس تحریر کے بعد حضرت اقدس نے فروری میں قادیان کے آریوں کے مقابلہ میں اپنی کتاب ”قادیان کے آریہ اور ہم شائع فرمائی۔اور اس میں لالہ شرمیت اور لالہ ملا وامل کو بالمقابل قسمیں کھانے کے لئے بلایا۔تو اس رسالہ کی ایک جلد مولوی ثناء اللہ امرتسری کو بھی بھیجی گئی جس کے متعلق ایڈیٹر صاحب الحکم نے لکھا کہ :۔اس رسالہ کی ایک جلد مولوی ثناء اللہ امرتسری کو بھی بھیجی گئی ہے۔قادیان کے آریوں نے حضرت مرزا صاحب کے جو نشانات دیکھ کر تکذیب کی اور کر رہے ہیں اس رسالہ میں ان سے مباہلہ کر دیا ہے۔اور ثناء اللہ نے کوئی نشان صداقت بطور خارق عادت اگر نہیں دیکھا ہے تو وہ بھی قسم کھا کر پر کھ لے تا معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ کس کی حمایت کرتا اور کس کی قسم کو سچا کرتا ہے۔“ (الحکم ۱۷۔مارچ ۱۹۰۷ء) ایڈیٹر صاحب الحکم کی اس تحریر کے جواب میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے لکھا کہ :۔