حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 13 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 13

13 مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔“ سو پہلا اور اصل امر میں بھی یہی ٹھہرایا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے اب ظاہر ہے کہ اگر آپ حضرت مسیح علیہ السلام کا زندہ ہونا ثابت کر دیں تو جیسا کہ پہلا فقرہ الہام اس سے باطل ہو گا ایسا ہی دوسرا فقرہ بھی باطل ہو جائے گا۔کیونکہ خدا تعالی نے میرے دعوی کی شرط مسیح کا فوت ہونا بیان فرمایا ہے۔میں اقرار کرتا ہوں اور حلفاً کہتا ہوں کہ اگر آپ مسیح علیہ السلام کا زندہ ہونا ثابت کر دیں گے تو میں اپنے دعوی سے دستبردار ہو جاؤں گا اور الہام کو شیطانی القاء سمجھ لوں گا اور تو بہ کروں گا۔اس کے بعد بھی شرائط سے متعلق گفتگو ہوتی رہی اور مولوی محمد حسن صاحب نے یہ شرط بھی ضروری ٹھہرائی کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی گفتگو سے پہلے چند اصول آپ سے تسلیم کرائیں گے۔بعض نامور علماء کو بحث کا چیلنج اسی سلسلہ کی خط و کتابت کے دوران حضور نے ۲۳ مئی ۱۸۹۱ کو نامور علماء کو بحث کیلئے چیلنج دیتے ہوئے ایک اور اشتہار شائع کیا۔اس اشتہار میں آپ نے مولوی عبدالعزیز لدھیانوی، مولوی محمد صاحب، مولوی مشتاق احمد صاحب، مولوی شاہدین صاحب، مولوی رشید احمد گنگوہی، مولوی محمد حسن صاحب اور مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کو وفات وحیات مسیح پر بحث کی دعوت دیتے ہوئے درج ذیل شرائط بیان فرمائیں۔اب بحث کا آسان طریق جس کا اوپر ذکر کر آئے ہیں یہ ہے جو شرائط ذیل میں مندرج ہے۔۱۔یہ کہ کسی رئیس کا مکان اس بحث کیلئے تجویز ہو جیسے نواب محمد علی خان صاحب، شہزادہ نادر شاہ صاحب، خواجہ احسن شاہ صاحب اور جلسہ بحث میں کوئی افسر یورپین