حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 314 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 314

314 قبول کیا جانا ضروی نہیں بلکہ بعض اوقات الہی مصلحتوں کے ماتحت ان کی دعا اس رنگ میں پوری نہیں ہوتی لیکن جب کبھی دشمنوں سے اس خصوص میں ان کا مقابلہ ہو تو ہمیشہ ان کی ہی سنی جاتی ہے اور ان کے مخالف نا کام اور مردود کئے جاتے ہیں۔ابتداء سے سنت الہی اسی طرح پر جاری ہے۔کبھی ایسا نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے کہ ایک برگزیدہ حق کے مقابل پر باطل نے دعا کی ہواور وہ ذلیل نہ ہوا ہو۔چنانچہ اسی سنت الہی کے پیش نظر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ” استجابت دعا“ کے نشان میں اپنے مخالفین کو کئی چیلنج دیئے مگر کسی مخالف کو مقابلہ کی جرات نہ ہوسکی۔چنانچہ آپ نے مولوی محمد حسین بٹالوی کو چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔بالآخر میں یہ بھی لکھنا چاہتا ہوں کہ میں نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے یہ درخواست کی تھی کہ آپ مجھے مکار اور غیرمسلم خیال کرتے ہیں تو آؤ اس طریق سے بھی مقابلہ کرو کہ ہم دونوں نشان قبولیت کے ظاہر ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں تا جس کے شامل حال نصرت الہی ہو جائے اور قبولیت کے آسمانی نشان اس کے لئے خدا کی طرف سے ظاہر ہوں اور وہ اس علامت سے لوگوں کی نظر میں اپنی قبولیت کے ساتھ شناخت کیا جاوے اور جھوٹے کی ہر روزہ کشمکش سے لوگوں کو فراغت اور راحت حاصل ہو۔اس کے جواب میں مولوی صاحب موصوف اپنے اشتہار یکم اگست ۱۸۹۱ء میں لکھتے ہیں کہ یہ درخواست اس وقت مسموع ہوگی جب تم اول اپنے عقائد کا عقائد اسلام ہونا ثابت کرو گے۔غیر مسلم (یعنی جو مسلمان نہیں) خواہ کتنا ہی آسمانی نشان دکھاوے اہل اسلام کی طرف التفات نہیں کرتے۔اب ناظرین انصاف فرما دیں کہ جس حالت میں اسی ثبوت کے لئے درخواست کی گی تھی کہ تا ظاہر جو جاوے کہ فریقین میں سے حقیقی اور واقعی طور پر مسلمان کون ہے پھر قبل از ثبوت ایک مسلمان کو جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل اور معتقد ہو غیر مسلم کہنا اور