حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 313
313 حضرت مسیح ناصری ناصری کا قول ہے کہ : استجابت دعا ” درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔“ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے کامل اور مقبول بندے بھی چند علامات کے ذریعہ شناخت کئے جاتے ہیں جو ان کے پھلوں کے طور پر ہوتی ہیں۔درخت کا بے ثمر رہ جا ناممکن ہے لیکن کسی مقبول بارگاہ ایزدی کا ان علامات خاصہ سے محروم رہ جانا محال، ناممکن اور ممتنع ہے۔انہی علامات میں سے ایک بہت بڑی علامت جو ان کے تعلق باللہ پر برہان قاطع کی حیثیت رکھتی ہے ان کی دعاؤں کا قبول ہونا ہے۔تمام انبیاء اور خاصان حق کا یہی حال ہے۔اس حقیقت کا ہر جگہ نمایاں ظہور نظر آتا ہے۔اس کا نام معجزہ ” استجابت دعا ہے۔سیدنا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ ایسے زمانہ میں مبعوث ہوئے جو مادہ پرستی میں از منہ سابقہ سے بہت آگے تھا۔اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کے ساتھ تعلقات کو محض افسانہ اور داستان پارینہ قرار دیا جاتا تھا۔آپ نے ذات باری پر ایک زندہ اور کامل یقین پیدا کرنے کے لئے نشانات ، چمکتے ہوئے معجزات ، دلائل عقلیہ اور براہین ساطعہ کے علاوہ ” قبولیت دعا کا اعجازی نشان بھی پیش فرمایا۔یہ وہ آسمانی حربہ تھا جس نے شک و شبہات کے تمام پردوں کو تار تار کر دیا اور ظلمت و تاریکی کونور سے بدل دیا۔یہ وہ آب حیات تھا جس نے لاکھوں مردوں کو زندہ کر دیا اور عالم زندہ ہو گیا۔بلا شبہ یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ بلحاظ رب اپنے ہر ایک بندہ کی اضطراری دعا سنتا ہے۔مگر خدا کے پیاروں کو اس بارہ میں اس قدر کثرت حاصل ہوتی ہے جو مرتبہ خارق عادت تک پہنچ جاتی ہے اور باعتبار کمیت و کیفیت ان کی دعاؤں کی قبولیت بے نظیر ہوتی ہے۔علاوہ ازیں ان کو اس باب میں ایک اور امتیاز بخشا جاتا ہے اور وہ یہ کہ اگر چہ عام اوقات میں ان کی ہر دعا کا بعینہ