حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 299 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 299

299 سرگرمی سے یہ کارروائی ہو رہی ہے اور خدا تعالیٰ اچھے و پروں کو اس طرف سے اکھاڑتا اور ہمارے باغ میں لگاتا جاتا ہے۔کیا منقول کی رو سے اور کیا معقول کی رو سے اور کیا آسمانی شہادتوں کی رو سے دن بدن خدا تعالیٰ ہماری تائید میں ہے۔اب بھی اگر مخالف مولوی یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اور یہ لوگ باطل پر اور خدا ہمارے ساتھ ہے اور ان لگوں پر لعنت اور غضب الہی ہے تو باوجود اس کے کہ ہماری حجت ان پر پوری ہو چکی ہے پھر دوبارہ ہم ان کوحق اور باطل پر کھنے کیلئے موقع دیتے ہیں۔اگر وہ فی الواقع اپنے تئیں حق پر سمجھتے ہیں اور ہمیں باطل پر اور چاہتے ہیں کہ حق کھل جائے اور باطل معدوم ہو جائے تو اس طریق کو اختیار کر لیں۔اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنی جگہ پر اور میں اپنی جگہ خدا تعالیٰ کی جناب میں دعا کریں۔ان کی طرف سے یہ عا ہو کہ یا الہی اگر یہ شخص جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا ہے تیرے نزدیک جھوٹا اور کا ذب اور مفتری ہے اور ہم اپنی رائے میں بچے اور حق پر اور تیرے مقبول بندے ہیں تو ایک سال تک کوئی فوق العادت امرغیب بطور نشان ہم پر ظاہر فرما اور ایک سال کے اندر ہی اس کو پورا کر دے۔اور میں اس کے مقابل پر یہ دعا کروں گا کہ یا الہی اگر تو جانتا ہے کہ میں تیری طرف سے ہوں اور در حقیقت مسیح موعود ہوں تو ایک اور نشان پیشگوئی کے ذریعہ سے میرے لئے ظاہر فرما اور اس کو ایک سال کے اندرو پرا کر۔پھر اگر ایک سال کے اندر ان کی تائید میں کوئی نشان ظاہر ہوا اور میری تائد میں کچھ ظاہر نہ ہوا تو میں جھوٹا ٹھیروں گا۔اور اگر میری تائید میں کچھ ظاہر امگر اس کے مقابل پران کی تائید میں بھی ویسا ہی کوئی نشان ظاہر ہو گیا تب بھی میں جھوٹا ٹھیروں گا۔لیکن اگر میری تائید میں ایک سال کے عرصہ تک کھلا کھلا نشان ظاہر ہو گیا ور ان کی تائید میں نہ ہوا تو اس صورت میں میں سچاٹھیروں گا اور شرط یہ ہوگئی کہ اگر تصریحات متذکرہ بالا کی