حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 295 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 295

295 پھر تخصیص کی کیا حاجت ہے کسی نشان کے آزمانے کیلئے یہی طریق کافی ہے کہ انسانی طاقتیں اسکی نظیر پیدا نہ کر سکیں۔اس خط کا جواب ڈاکٹر صاحب نے کوئی نہیں دیا تھا۔اب پھر ڈاکٹر صاحب نے نشان دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور مہربانی فرما کر اپنی اس پہلی قید کو اٹھا لیا ہے اور صرف نشان چاہتے ہیں کوئی نشان ہو مگر انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو لہذا آج ہی کی تاریخ یعنی ۱۱ جنوری ۱۸۹۲ء کو بروز دوشنمی ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں مکرر ادعوت حق کے طور پر ایک خط رجسٹری شدہ بھیجا گیا ہے۔جسکا مضمون یہ ہے کہ اگر آپ بلا تخصیص کسی نشان دیکھنے پر سچے دل سے مسلمان ہونے کیلئے تیار ہیں تو اخبارات مندرجہ حاشیہ میں حلفاً یہ اقرار اپنی طرف سے شائع کر دیں کہ میں جو فلاں ابن فلاں ساکن بلدہ فلاں ریاست جموں میں برعہدہ ڈاکٹری متعین ہوں اور اسوقت حلفا اقرار صحیح سراسر نیک نیتی اور حق طلبی اور خلوص دل سے کرتا ہوں کہ اگر میں اسلام کی تائید میں کوئی نشان دیکھوں جسکی نظیر مشاہدہ کرانے سے میں عاجز آ جاؤں اور انسانی طاقتوں میں اسکا کوئی نمونہ انھیں تمام لواز کے ساتھ دکھلا نہ سکوں تو بلا توقف مسلمان ہو جاؤں گا۔اس اشاعت اور اس اقرار کی اسلئے ضرورت ہے کہ خدائے قیوم وقد وس بازی اور کھیل کی طرح کوئی نشان دکھلانا نہیں چاہتا جب تک کوئی انسان پورے انکسار اور ہدایت یابی کی غرض سے اسکی طرف رجوع نہ کرے تب تک وہ بنظر رحمت رجوع نہیں کرتا اور اشاعت سے خلوص اور پختہ ارادہ ثابت ہوتا ہے اور چونکہ اس عاجز نے خدائے تعالیٰ کے اعلام سے ایسے نشانوں کے ظہور کیلئے ایک سال کے وعدہ پر اشتہار دیا ہے سو وہی میعاد ڈاکٹر صاحب کیلئے قائم رہے گی طالب حق کیلئے یہ کوئی بڑی میعاد نہیں۔اگر میں ناکام رہا تو ڈاکٹر صاحب جو سزا اور تاوان میری مقدرت کے موافق میرے لئے تجویز کریں وہ مجھے منظور ہے اور بخدا مجھے مغلوب