حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 280
280 برس تک ہمارے پاس قادیان میں ٹھہرے تو خدا تعالیٰ اس کو ایسے نشان درباره اثبات حقیقت ضرور دکھائے گا جو کہ طاقت انسانی سے بالاتر ہوں گے۔سو ہم لوگ جو آپ کے ہم سایہ اور ہمشہری ہیں لندن اور امریکہ والوں سے زیادہ حقدار ہیں اور ہم آپ کی خدمت میں قسمیہ بیان کرتے ہیں جو ہم طالب صادق ہیں کسی قسم کا شر اور عناد جو بمقتضائے نفسانیب یا مغائرت مذہب نا اہلوں کے دلوں میں ہوتا ہے وہ ہمارے دلوں میں ہرگز نہیں۔اور نہ ہم بعض نامنصف مخالفوں کی طرح آپ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ ہم صرف ایسے نشانوں کو قبول کریں گے جو اس قسم کے ہوں کہ ستارے اور سورج اور چاند پارہ پارہ ہوکر زمین پر گر جائیں۔یا ایک سورج کی بجائے تین سورج اور ایک چانک کی جگہ دو چاند ہو جائیں یا زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو کر آسمان سے جا لگے۔یہ باتیں بلاشبہ ضدیت اور تعصب سے ہیں نہ حق جوئی کی راہ سے لیکن ہم لوگ ایسے نشانوں پر کفایت کرتے ہیں جن میں زمین آسمان کی زیروز بر کرنے کی حاجت نہیں اور نہ قوانین قدرتیہ کے توڑنے کی کچھ ضرورت۔ہاں ایسے نشان ضرور چاہئیں جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہوں جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ وہ سچا اور پاک پر میشر بوجہ آپ کی راستبازی دینی کے عین محبت اور کر پا کی راہ سے آپ کی دعاؤں کو قبول کر لیتا ہے اور قبولیت دعا سے قبل از وقوع اطلاع بخشتا ہے یا آپ کو اپنے بعض اسرار خاص خاص پر مطلع کرتا ہے اور بطور پیشگوئی ان پوشیدہ بھیدوں کی خبر آپ کو دیتا ہے یا ایسے عجیب طور سے آپ کی مدد اور حمایت کرتا ہے جیسے وہ قدیم سے پانے برگزیدوں اور مقربوں اور بھگتوں اور خاص بندوں سے کرتا صیا ہے۔سو آپ سوچ لیں کہ ہماری اس درخواست میں کچھ ہٹ دھرمی اور ضد نہیں ہے اور اس جگہ ایک اور بات واجب العرض ہے اور وہ یہ ہے کہ