حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 272
272 لیکھرام میدانِ مقابلہ میں پنڈت اندر من مراد آبادی کے میدان مقابلہ سے فرار کے بعد پنڈت لیکھرام پشاوری مقابلہ میں نکل آیا اور اس نے قادیان آنے پر آمادگی ظاہر کی۔چنانچہ اس نے ۱۸۸۵ء کی پہلی سہ ماہی کے آخر میں حضرت اقدس سے خط و کتابت شروع کر دی اور دوسو روپیہ ماہوار کا مطالبہ کیا۔حضرت اقدس نے اس کو جواب دیا کہ تم کسی قوم کے مقتدا اور پیشوا نہیں اور نہ تمہاری آمدنی دوسو روپیہ ماہوار ہے۔ایسی حالت میں تم اس کے مستحق نہیں۔یہ سلسلہ خط و کتابت کسی قدر لمبا ہو گیا۔بالآ خر حضرت اقدس نے لیکھرام کو کہا کہ وہ آریہ سماج لاہور، قادیان، امرتسر اور لدھیانہ کے ممبروں کی حلفیا تصدیق سے ایک اقرار نامہ پیش کرے جس میں وہ اس کو اپنا مقتدا تسلیم کرتے ہوں۔اس اقرار نامہ پر بعض ثقہ مسلمانوں اور بعض پادریوں کی شہادت ہو اور اسے اخبارات میں شائع کرا دیا جائے مگر پنڈت لیکھرام نے کبھی ان پانچوں آریہ سماجوں کی طرف سے دستخطی اقرار نامہ اور مختار نامہ لے کر نہ بھیجا۔یہ خط و کتابت جولائی ۱۸۸۵ء تک جاری رہی۔بالآ خر حضرت اقدس نے اتمام حجت کے لئے لیکھرام کی اس شرط کو بھی منظور کر لیا کہ باوجود یکہ وہ ایسی عزت اور حیثیت نہیں رکھتا جو مشتہرہ اعلان مطبوعہ مرتضائی پریس میں بیان کی گئی ہے تاہم اس کے اصرار پر چوہیں سور و پیہ بھی دینا منظور کر لیا تا کہ وہ مقابلہ میں آجاوے اور اس پر اتمام حجت ہو۔چنانچہ خط جو ۱۷ جولائی ۱۸۸۵ ء کو آپ نے لکھا اس میں تحریر فرمایا کہ:۔ہر چند ہم نے کوشش کی مگر ہم پر یہ ثابت نہیں ہوا کہ آپ ان معزز اور ذی مرتبت لوگوں میں سے ہیں جو بوجہ حیثیت عرفی اپنی کے دوسور و پیہ ماہوار پانے کے مستحق ہیں مگر چونکہ آپ کا اصرار اپنے اس دعوی پر رعایت درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ فی الحقیقت میں ایسا ہی عزت دار ہوں اور پشاور بمبئی تک جسقدر آریہ سماج ہیں وہ سب مجھے معزز اور قوم میں سے معزز بزرگ اور سر کردہ سمجھتے ہیں اس لئے آپ کی طرف لکھا جاتا ہے