حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 256 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 256

256 کی فہرست پیش فرمائی جن کے آریہ لوگ گواہ تھے۔اور قادیان کے آریوں کو جو ان پیشگوئیوں کے عینی گواہ تھے آپ کی پیشگوئیوں سے لاعلمی کا اظہار کرنے پر قسم کھانے کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا:۔قادیان کے آریوں پر جو فساد پھیلانے کی جڑ ہیں فرض ہوگا کہ اگر وہ حقیقت میں ہمیں فریبی سمجھتے ہیں تو اسی قادیان میں ایک جلسہ عام میں ایک ایسی قسم کھا کر جو ہر یک شہادت کے نیچے لکھی جائے گی ان الہامی پیشگوئیوں کی نسبت لاعلمی ظاہر کریں۔تب ہم بھی ان کا پیچھا چھوڑ دیں گے اور اس قادر مطلق کے حوالے کر دیں گے جو دروغ گو بے سزا نہیں چھوڑتا۔اور بے عزتی سے اپنے مالک کے نام لینے والے کو ایسا ہی بے عزت کرتا ہے جیسا کہ وہ جھوٹی قسم اللہ جل شانہ کی کھا کر اس ذوالجلال کی عزت کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتا۔لیکن اگر اب بھی آریوں نے یہ کھلا کھلا فیصلہ نہ کیا اور صرف جعلسازی کی اوٹ میں دور سے تیر مارتے رہے اور گھر میں کچھ اور باہر سے کچھ اور اخباروں ، اشتہاروں میں کچھ اور دوسرے لوگوں کے پاس کچھ کہتے رہے تو اے ناظرین آپ لوگ سمجھ رکھیں کہ یہ ان کی ہٹ دھرمی اور دروغ گوئی کی نشانی ہے۔بہر حال اب اس جلسہ کی نہایت ضرورت ہے تاہم بھی دیکھ لیں کہ سچ کا اختیار کرنا اور جھوٹ کا تیا گنا کہاں تک ان میں پایا جاتا ہے۔“ (شحنہ حق۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۸۰،۳۷۹) حضرت اقدس کے اس چیلنج کے بعد لالہ ملا وامل اور لالہ شرمیت اور نہ کسی اور آریہ کو میدان میں اتر کر قسم کھانے کی جرات ہوسکی۔مگر دوبارہ ۱۹۰۴ء میں قادیان سے ایک اخبار شبھ چپک“ شائع ہونے لگا جس میں حضرت اقدس اور آپ کی جماعت کے خلاف وہ جھوٹا پراپیگنڈا شروع کیا کہ الامان والحفیظ ! اور اس جھوٹ کو پھیلانے میں تین اشخاص خاص طور پر پیش پیش تھے۔یعنی