حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 255
255 اب بھی موجود ہے۔“ ( شحنه حق۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۸۶، ۳۸۷) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب ضمیمہ نزول مسیح میں اپنی پیشگوئیوں پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے ایک یہودی کی تالیف کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس یہودی نے اپنی تالیف میں حضرت عیسی علیہ السلام کی پیشگوئیوں پر نہایت سخت اعتراض کئے ہیں بلکہ وہ ایسے سخت ہیں ان کا تو ہمیں بھی جواب نہیں آتا۔چنانچہ اس سلسلہ میں آپ چیلنج دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔اگر مولوی ثناء اللہ یا مولوی محمد حسین یا کوئی پادری صاحبوں میں سے ان اعتراضات کا جواب دے سکے تو ہم ایک سورو پیہ نفقد بطور انعام ان کے حوالہ کریں گے۔“ نزول امسیح۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۱۱) لالہ ملاوامل اور لالہ شرمیت کو اپنی پیشگوئیوں کے متعلق قسم کھانے کا چیلنج قادیان کے رہنے والے دو آریہ لالہ ملاوامل اور لالہ شرمیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔حضرت اقدس کو جب بھی کسی پیشگوئی پر مبنی الہام ہوتا تو حضور اپنے ان دونوں ساتھیوں کو بتا دیا کرتے تھے تاکہ وہ گواہ بن جائیں۔چنانچہ جب حضرت اقدس کی بعض ایسی پیشگوئیاں پوری ہو گئیں جن کے لالہ ملا وامل اور لالہ شرمیت گواہ تھے تو حضرت اقدس نے ان پیشگوئیوں کا ذکر فرماتے ہوئے مذکورہ دونوں آریہ صاحبان کو بطور گواہ پیش فرمایا۔مگر یہ دونوں آریہ صاحبان نے دیگر آریاؤں کے خوف اور ڈر سے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔یہاں تک کہ ایک اشتہار شائع کر دیا جس میں یہ بیان دیا کہ ”ہم مرزا صاحب کو فریبی جانتے ہیں ، لہم من اللہ نہیں سمجھتے اس پر حضرت اقدس نے اپنی کتاب ”شہ حق“ اپنی ایسی پیشگوئیوں