حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 254
254 کے اس سراسر من گھڑت بہتان کا جواب دیتے ہوئے حضرت اقدس نے فرمایا:۔”اب دیکھنا چاہئے کہ وہ کنجر جو ولد الزنا کہلاتے ہیں وہ بھی جھوٹ بولتے شرماتے ہیں مگر آریہ میں اس قدر بھی شرم باقی نہیں رہی۔جس قوم میں اس جنس کے شریف وامین لوگ ہیں وہ کیا کچھ ترقیاں نہیں کریں گے۔اب اس نیک ذات آریہ پر فرض ہے کہ ایک جلسہ کرا کر ہمارے روبرو اس بہتان کی تصدیق کروائے تا اصل راوی کو حلف سے پوچھا جائے اور اس بے اصل بہتان کے لئے نہ صرف ہم اس راوی کو حلف دیں گے بلکہ آپ بھی حلف اٹھائیں گے۔فریقین کے حلف کا یہ مضمون ہو گا کہ اگر سچ سچ اپنے حافظہ کی پوری یادداشت سے بلا ذرہ کم و بیش میں نے بیان نہیں کیا تو اے قادر مطلق اور اے پر میشر سب شکتی مان ایک سال تک اپنے قہر عظیم سے ایسی میری بیخ کنی کر اور ایسا ہیبت ناک عذاب نازل فرما کہ دیکھنے والوں کو عبرت ہوا اور پھر اگر ایک سال تک آسمانی عذاب سے اصل راوی محفوظ رہا تو ہم اپنے جھوٹا ہونے کا خود اشتہار دے دیں گے۔کیونکہ ہم جانتے ہیں خدا تعالیٰ ایسے بہتان صریح کو بے فیصلہ نہیں چھوڑے گا۔یہ تو ہمارے لئے اور ایک ملہم من اللہ کے لئے ممکن بلکہ کثیر الوقوع ہے جو کوئی خواب یا الہام مشتبہ طور پر معلوم ہو جس کی احتمالی طور پر کئی معنے کئے جائیں مگر یہ افتراء کہ قطعی طور پر ہمیں الہام ہو گیا کہ دین محمد جان محمد کا لڑکا اب مرے گا اس کی قبر کھو دو یہاں تک کہ جان محمد کو یہ خبر دی کہ اب دین محمد تیر الٹر کا ضرور مرے گا۔دین محمد کے نام الہام ہو چکا قبر کھودنے کا حکم ہوا اور وہ خبر سن کر روتا روتا گھر تک گیا۔یہ جھوٹ کی نجاست کس نے کھائی ہے۔ایسا ایمان زادہ زرہ ہمارے سامنے آوے لیکن اب بھی اگر راقم رسالہ اپنی دوز ونشی کی عادت کو نہیں چھوڑے گا اور جلسہ عام میں راوی کو قتسم دلانے سے تصفیہ نہیں کرے گا تو ہی دس لعنتوں کا تمغہ جو پہلے اس کو ہم دے چکے ہیں