حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 242
242 پیشگوئیوں کے ذریعہ اپنی صداقت کو پر کھنے کے چیلنج اس سے پہلے ہم گذشتہ صفحات میں از روئے قرآن ثابت کر آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بھی مدعی نبوت کے دعوئی کو پر کھنے کیلئے پیشگوئیوں کو معیار قرار دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنے صدق اور کذب کو جانچنے کے لئے اپنی پیشگوئیوں کو مدار ٹھہرایا ہے۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔” خدا تعالیٰ کے زبردست کام اور پیشگوئیاں جو ربانی طاقت اپنے اندر رکھتی ہیں جو ملہموں اور واصلانِ الہی کو دی جاتی ہیں ، اللہ جل شانہ کے وجود اور اس کی صفات کاملہ جمیلہ جلیلہ پر دلالت قویہ قطعیہ رکھتی ہیں۔لیکن افسوس کہ دنیا میں صدق دل سے خدا تعالیٰ کو طلب کرنے والے اور اس کی معرفت کی راہوں کے بھوکے اور پیاسے بہت کم ہیں اور اکثر ایسے لوگوں سے دنیا بھری پڑی ہے جو پکارنے والے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور جگانے والے شور سے آنکھ نہیں کھولتے۔ہم نے اس امر کی تصدیق کرانے کیلئے خدا تعالیٰ سے فضل اور توفیق اور اذن پا کر ہر ایک مخالف کو بلایا مگر کوئی شخص دل کے صدق اور سچی طلب سے ہماری طرف متوجہ نہیں ہوا۔اور اگر کوئی متوجہ ہو تو وہ زندہ خدا جس کی قدرتیں ہمیشہ عقلمندوں کو حیران کرتی ہیں وہ قادر قیوم جو قدیم سے اس جہان کے حکیموں کو شرمندہ اور ذلیل کرتا رہا ہے بلاشبہ آسمانی چمک سے اس پر حجت قائم کرے گا۔“ آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۵۹،۱۵۷) چنانچہ اس سلسلہ میں آپ نے حکومت وقت کو درج ذیل تجویز پیش فرمائی۔”اگر میری قوم کے یہ مولوی مجھ پر دانت پیستے ہیں اور مجھ کو جھوٹا اور بداعمال خیال کرتے ہیں تو میں اس محسن گورنمنٹ کو اپنے اور ان لوگوں کے فیصلہ کے لئے منصف