حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 231 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 231

231 صفحہ ۶۵۰) یعنی یہ شخص گوسالہ سامری کی طرح ایک بچھڑا ہے جو یو نبی شور مچاتا ہے ورنہ اس میں روحانی زندگی کا کچھ حصہ نہیں۔اس پر ایک بلا نازل ہوگی اور عذاب آئے گا۔اس کے بعد آپ نے لکھا کہ اب میں تمام فرقہ ہائے مذاہب پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے یعنی ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے بالا اور خارق عادت اور اپنے اندر ہی ہیت رکھتا ہوتو سمجھو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔اس اعلان کے پانچویں سال جیسا کہ ایک الہام میں بتایا گیا تھا۔یقضی امرہ فی ست یعنی پنڈت لیکھرام کا معاملہ چھ سال میں ختم ہو جائے گا کے مطابق پنڈت لیکھرام عیدالفطر کے دوسرے دن ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء کو شام کے چھ بجے پیشگوئی کے مطابق قتل کیا گیا اور اللہ تعالیٰ کے فرستادے کی صداقت کیلئے ایک نشان ٹھہرا اور ان کیلئے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کے خلاف گندہ دہانی کرتے ہیں موجب عبرت بنا۔اور اس طرح یہ ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیشگوئی اپنی طرف سے نہیں بلکہ علام الغیوب خدا کی طرف سے تھی۔پنڈت لیکھرام چونکہ آریہ قوم کے ایک مشہور لیڈر تھے اور حضرت اقدس کی پیشگوئی کا بھی گھر گھر چر چا تھا لہذا جب پنڈت صاحب قتل ہوئے تو ملک میں طول وعرض میں شور پڑ گیا۔ہند و اخبارات میں اس واقعہ قتل کو کھلم کھلا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سازش کا نتیجہ قرار دیا گیا۔آپ کو قتل کی دھمکیوں پر مشتمل گمنام خطوط لکھے گئے۔خفیہ انجمنوں میں قاتل کی نشاندہی کرنے پر والے کیلئے بڑی بڑی رقمیں مقرر کی گئیں۔مگر اس قتل کا سراغ نہ ملنا تھا نہ ملا۔اور حضرت اقدس کی حفاظت کا تو اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ لے چکا تھا جیسا کہ آپ کے الہام واللہ یعصمک من الناس سے ظاہر ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کے حملوں سے محفوظ رکھے گا۔