حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 230 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 230

230 لے لے۔اور پھر ایک وجہ معقول کے ساتھ تمام جہان میں ہماری نسبت منادی کرا دے کہ آزمائش کے بعد میں نے اس کو فریبی اور جھوٹ پایا یکم اپریل ۱۸۸۷ء سے اخیر مئی ۱۸۸۷ء تک اسے مہلت ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ اس کے اطمینان کے لئے روپیہ کی برہمو صاحب کے پاس رکھا جائے گا جو دونوں فریق کے لئے بطور ثالث ہیں اور وہ بر ہموصاحب ہمارے جھوٹا نکلنے کی حالت میں خود اپنے اختیار سے جو پہلے بذریعہ تحریر خاص ان کو دیا جائے گا اس آریہ فتح یاب کے حوالہ کر دیں گے۔اور اگر اب بھی روپیہ لینے میں دھڑ کا ہو تو اس عمدہ تدبیر پر کہ خود آریہ صاحب سوچیں عمل کیا جائے گا۔(سرمہ چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۷۵،۳۷۴) مگر اس دعوت کو لیکھرام نے قبول نہ کیا اور مخالفت میں بڑھنا شروع کر دیا۔جب لیکھر ام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت استہزاء میں حد سے بڑھ گیا اور بار بارنشان طلب کرنا شروع کر دیا تو اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ سے دعا کی جس میں آپ کو لیکھرام کی ہلاکت سے متعلق بتایا گیا۔اس پیشگوئی کے شائع کرنے سے پہلے آپ نے لیکھرام سے دریافت کیا کہ اگر اس پیشگوئی کے شائع کرنے سے اس کو رنج پہنچے تو اس پیشگوئی کو شائع نہ کیا جائے۔مگر اس نے اس کے جواب میں یہی لکھا کہ اس آپ کی پیشگوئیوں سے کچھ خوف نہیں آپ بے شک شائع کر دیں مگر چونکہ پیشگوئی میں وقت کی تعیین نہ تھی اور لیکھر ام وقت کی تعیین کا مطالبہ کرتا تھا اس لئے آپ نے پیشگوئی کے شائع کرنے میں اس وقت تک توقف کیا جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وقت معلوم نہ ہو گیا۔آخر اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر کہ ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء سے چھ برس کے اندرلیکھر ام پر ایک دردناک عذاب آئے گا جس کا نتیجہ موت ہوگی یہ پیشگوئی شائع کر دی۔ساتھ ہی عربی زبان میں یہ الہام بھی شائع کیا جولیکھرام کی نسبت تھا یعنی عجل جسد له خوار له نصب و عذاب آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵