حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 170
170 تھوڑا ہو تو جسقدر ہمارے لئے ممکن ہو گا ہم ان کی درخواست پر بڑھا دیں گے۔اور ہم صفائی فیصلہ کیلئے پہلے سورہ فاتحہ کی ایک تفسیر طیار کر کے چھاپ کر پیش کریں گے اور اس میں وہ تمام حقائق و معارف و خواص کلام الوہیت به تفصیل بیان کریں گے جو سورہ فاتحہ میں مندرج ہیں۔اور پادری صاحبوں کا یہ فرض ہوگا کہ توریت اور انجیل اور اپنی تمام کتابوں میں سے سورہ فاتحہ کے مقابل پر حقائق اور معارف اور خواص کلام الوہیت جس سے مراد فوق العادۃ عجائبات ہیں۔جن کا بشری کلام میں پایا جانا ممکن نہیں پیش کر کے دکھلائیں۔اور اگر وہ ایسا مقابلہ کریں اور تین منصف غیر قوموں میں سے کہہ دیں کہ وہ لطائف اور معارف اور خواص کلام الوہیت جو سورہ فاتحہ میں ثابت ہوئے ہیں وہ ان کی پیش کردہ عبارتوں میں ثابت ہیں تو ہم پانسو روپیہ جو پہلے سے انکے لئے ان کی اطمینان کی جگہ پر جمع کرایا جائے گا دے دیں گے۔“ ( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔روحانی خزائن جلد نمبر ۱۲ صفحه ۳۶۲) وید اور قرآن کریم کا موازنہ عیسائیت کی طرح آریہ اور برہمو سماج تحاریک بھی اس زمانہ میں بڑی متحرک تھیں اور اسلام کے خلاف سخت طور پر نبرد آزما تھیں۔اور قرآنی تعلیمات کو طرح طرح کے اعتراضات کا نشانہ بنا رہی تھی۔اس صورت حال کے پیش نظر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سب سے پہلے مذکورہ بالا انہیں دوتحریکوں کا پیچھا کیا اور ویدوں کی تعلیمات و عقائد پر ایسی کڑی تنقید کی کہ آریوں کو پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا۔آپ نے بار بار ویدوں کو قرآنی تعلیمات سے مقابلہ وموزانہ کرنے کی آریہ سکالرز کو دعوتیں دیں۔مگر کوئی بھی آریہ سکالر آپ کے سامنے دم نہ مار سکا۔چنانچہ ذیل میں ایسے چیلنج پیش کئے جارہے ہیں جو آپ نے آریوں کو ویدوں کا قرآن سے مقابلہ اور دونوں کتب کی تعلیمات کا موازنہ کرانے کے سلسلہ میں دیئے۔