حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 169 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 169

169 سے اس کے قومی کی تربیت کرتے ہیں۔ان پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ہاں ! اسلام کے جو اعتراض غیر مذاہب پر ہیں وہ ان کا جواب نہیں دے سکتے۔“ ( ملفوظات نیا ایڈیشن جلد نمبر اصفحہ ۱۸۸،۱۸۷) توریت و انجیل کا قرآن سے مقابلہ کی دعوت جیسا کہ گذشتہ صفحات میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے وقت عیسائیت بڑی سر گرم عمل تھی۔جگہ جگہ بائیل سوسائیٹیاں قائم تھیں اور اسلام اور قرآن پاک کو مختلف انواع کے اعتراضات کا نشانہ بنائے ہوئے تھی۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیگر مذاہب کی طرح عیسائی دنیا کو بھی مقابلہ کیلئے لکار اور توریت اور انجیل کا قرآن کریم سے مقابلہ کرنے کا درج ذیل چیلنج دیتے ہوئے فرمایا:۔سو توریت اور انجیل قرآن کا کیا مقابلہ کریں گی۔اگر صرف قرآن شریف کی پہلی سورت کے ساتھ ہی مقابلہ کر نا چاہیں یعنی سورۃ فاتحہ کے ساتھ جو فقط سات آیتیں ہیں اور جس ترتیب انسب اور ترکیب محکم اور نظام فطرتی سے اس سورت میں صد ہا حقائق اور معارف دینیہ اور روحانی حکمتیں درج ہیں ان کو موسیٰ کی کتاب یا یسوع کے چند ورق انجیل سے نکالنا چاہیں تو گویا ساری عمر کوشش کریں تب بھی یہ کوشش لا حاصل ہوگی۔اور یہ بات لاف و گزاف نہیں بلکہ واقعی اور حقیقی یہی بات ہے کہ توریت اور انجیل کوعلوم حکمیہ میں سورہ فاتحہ کے ساتھ بھی مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ہم کیا کریں اور کیونکر فیصلہ ہو۔پادری صاحبان ہماری کوئی بات بھی نہیں مانتے۔بھلا اگر وہ اپنی تو ریت یا انجیل کو معارف اور حقائق کے بیان کرنے اور خواص کلام الوہیت ظاہر کرنے میں کامل سمجھتے ہیں تو ہم بطور انعام پانسور و پیہ نقد ان کو دینے کیلئے طیار ہیں۔اگر وہ اپنی کل ضخیم کتابوں میں سے جو ستر کے قریب ہوں گی ، وہ حقائق اور معارف شریعت اور مرتب اور منتظم در حکم و جواہر معرفت خواص کلام الوہیت دکھلا سکیں جو سورہ فاتحہ میں سے ہم پیش کریں اور اگر یہ روپیہ