حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 168 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 168

168 مباحثہ کے نظام کو محفوظ رکھنے کے لئے یہ بات بھی لازم پکڑیں کہ جس دلیل سے اب ہم شروع کرتے ہیں اسی دلیل کا وجود اپنے بالمقابل رسالہ میں اپنی کتاب میں سے نکال کر دکھلا دیں۔علی ہذا القیاس ہمارے ہر یک نمبر کے نکلنے کے مقابل اسی دلیل کو اپنی کتاب کی حمایت میں پیش کریں جو ہم نے اس نمبر میں پیش کی ہو۔اس انتظام سے بہت جلد فیصلہ ہو جائے گا کہ ان کتابوں میں سے کونسی کتاب اپنی سچائی کو ثابت کرتی ہے اور معارف کا لا انتہاء سمندر اپنے اندر رکھتی ہے۔اب ہم خدا تعالیٰ سے توفیق پا کر اول نمبر کو شروع کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ یا الہی سچائی کو فاتح کر اور باطل کو ذلیل اور مغلوب کر کے دکھلا ولا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم۔( نورالقرآن۔روحانی خزائن جلد نمبر ۹صفه ۳۳۳٬۳۳۲) آپ نے جہاں قرآن کریم سے ہر یک صداقت ثابت کرنے کی مخالفین کو دعوت دی ہے وہاں یہ بھی چیلنج دیا ہے کہ شریعت اسلامیہ کے مسائل پر کسی نوع کا اعتراض وارد نہیں ہوسکتا۔بلکہ اس کے بالمقابل اسلام کے جو اعتراض غیر مذہب پر ہیں وہ ان کا جواب نہیں دے سکتے۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔آمین“۔”ایسا ہی دوسرے مسائل غلامی اور جہاد پر بھی ان کے اعتراض درست نہیں۔کیونکہ توریت میں ایک لمبا سلسلہ ایسی جنگوں کا چلتا ہے، حالانکہ اسلام کی لڑائیاں ڈیفینسو ( دفاعی ) تھیں اور وہ صرف دس سال ہی کے اندر ختم ہوگئیں۔میں دعوے سے کہتا ہوں کہ یہ مسائل ان کی کتابوں میں سے نکال سکتا ہوں اور ایسے ہی میرا دعویٰ ہے کہ تمام صداقتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔اگر کوئی مدعی ایسی صداقت پیش کرے کہ وہ قرآن میں نہیں، میں اسے نکال کر دکھانے کو تیار ہوں۔اسلامی شریعت نے وہ تمام مسائل لئے ہیں جو طبعی اور فطرتی طور پر انسان کے لئے مطلوب ہیں اور جو ہر پہلو