حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 156
156 تعریف کی رو سے آپ نے اپنے آپ کو نبی اور رسول کہا۔اب ظاہر ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کی تعریف نبوت کے رو سے حضرت صاحب کبھی بھی نبی نہ تھے اور نہ صرف حضرت صاحب بلکہ آپ سے پہلے ہزاروں انبیاء جو صاحب شریعت نہ تھے وہ بھی نبی ثابت نہیں ہوتے کیونکہ وہ بھی کوئی نئی شریعت نہ لائے تھے لیکن ۱۹۰۱ء کے بعد کی تشریح کی رو سے ۱۹۰۱ء سے پہلے بھی حضور نبی تھے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صاحب شریعت نبی ہونے سے انکار اور اس کو کفر قرار دینا ابتداء سے انتہاء تک ثابت ہے۔ہاں غیر تشریعی نبوت کا آپ کو دعوی تھا اور اس دعوے سے حضور نے کبھی انکار نہیں کیا۔نہ ۱۹۰۱ ء سے پہلے نہ ۱۹۰۱ ء کے بعد۔چنانچہ آپ نے لکھا۔" جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔“ ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۱۱،۲۱۰) پس حضرت بانی سلسلہ پر یہ اعتراض کرنا کہ آپ نے ۱۹۰۱ء میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے اس لئے آپ خود اس اصول کے مطابق صادق قرار نہیں پاتے بالکل غلط اور غیر صحیح ہے۔کیونکہ آپ نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں جو ۱۸۸۲ء میں شائع ہوئی میں کئی ایسے الہامات درج فرمائے ہیں جن میں آپ کی نسبت نبی اور رسول کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔صرف آپ ان الفاظ کی مروجہ تعریف کی وجہ سے مختلف تعبیر فرماتے رہے جس سے آپ کے منصب نبوت کی نسبت کوئی اعتراض پیدا نہیں ہوسکتا۔