حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 155 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 155

155 اعتراض بعض مخالفین کہا کرتے ہیں کہ لو تَقَول والی آیت تو مدعیان نبوت کیلئے ہے۔مگر مرزا صاحب نے دعوی نبوت ۱۹۰۱ء میں کیا ہے۔جواب ہمارا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضرت بانی سلسلہ ۱۹۰۱ء سے پہلے نبی نہ تھے بلکہ عقیدہ تو یہ ہے کہ حضور براہین احمدیہ کے زمانہ میں بھی نبی تھے کیونکہ حضرت اقدس کا الہام هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَی براہین احمدیہ میں موجود ہے جس میں حضور کو رسول کر کے پکارا گیا ہے اور حضور نے اس الہام کو خدا کی طرف منسوب کیا ہے۔دراصل یہ الجھن لفظ نبی کی تعریف کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔لفظ نبی کی تعریف جو غیر احمدی علماء کے نزدیک مسلم تھی وہ یہ تھی کہ ”نبی کیلئے شریعت کا لانا ضروری ہے۔نیز یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے نبی کا تابع نہ وہ۔اس تعریف کی رو سے حضرت مرزا صاحب نہ ۱۹۰۱ء سے پہلے نبی تھے اور نہ بعد میں کیونکہ آپ کوئی نئی شریعت نہ لائے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع بھی تھے۔پس چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریعی نبی نہ تھے اس لئے اوائل میں حضور اس تعریف نبوت کی رو سے اپنی نبوت کی نفی کرتے رہے جس سے بعض لوگوں کو دھو کہ لگا ہے حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس انکار سے مراد محض اس قدر تھی کہ میں صاحب شریعت براہ راست نبی نہیں ہوں۔لیکن بعد میں جب ”نبی“ کی تعریف حضور پر واضح ہوگئی اور اس تعریف کو آپ نے مخالفین پر خوب واضح فرما دیا کہ نبی کیلے شریعت کا لانا ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ وہ صاحب شریعت نبی کا متبع ہو بلکہ کثرت مکالمہ و مخاطبه مشتمل بر کثرت امور غیبیہ کا نام نبوت ہے تو اس