حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 151 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 151

151 ہے اور باقیوں میں سے کسی ایک کا بھی اپنا دعویٰ ماموریت یا نبوت ورسالت موجود نہیں جسے اس نے کھلم کھلا اور بر ملا پیش کیا ہو۔بعض نادان اس چیلنج کے جواب میں فرعون مصر اور بہاء اللہ ایرانی کے نام پیش کر دیا کرتے ہیں۔اس کا جواب ہم ”لو تقول “ والی آیت کی شرائط کے ضمن میں لکھ آئے ہیں کہ اس آیت کے تحت صرف مدعی نبوت و رسالت اور ماموریت آتے ہیں۔الوہیت کا دعویدار اس آیت کے تابع نہیں آ سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ کا قانون ہر دو کا ذبوں کیلئے الگ الگ ہے۔اللہ تعالیٰ نے مدعی نبوت کا ذبہ کیلئے تو اسی دنیا میں قطع و تین اور نا کامی کی سزا مقرر فرمائی ہے جبکہ مدعی الوہیت کیلئے جہنم کی سزا مقرر فرمائی ہے۔پس ”لو تقول “ کے مطالبہ پر فرعون مصر یا بہاء اللہ کا ذکر کرنا سراسر نادانی ہے۔پس مذکورہ بالا ساری بحث سے صاف ثابت ہو گیا کہ آیت ولو تقول علینا“ کا مطلب تفاسیر، لغت، گذشتہ آسمانی کتب اور واقعات کی تائید سے یہی ہے کہ مفتری کو تئیس سال کی مہلت نہیں مل سکتی۔اور آج تک کسی کا ذب مدعی الہام کو نہیں ملی۔اور نہ قیامت تک مل سکے گی۔آسمان وزمین کامل جانا ممکن ہے مگر خدا کا یہ نوشتہ نہیں مل سکتا ور نہ یہ قانون باطل ہو سکتا ہے۔بعض اعتراضات وو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذکورہ آیات سے استدلال پر بعض مخالفین نے بعض علمی اور فنی نوعیت کے اعتراضات اٹھائے ہیں جن کا جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں۔اعتراض آیت ”لو تقول علینا “ میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں۔اس سے