حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 147 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 147

147 شاہ مراکش نے اسے دار السلطنت سے نکال دیا اور جبل سوس میں جا کر بغاوت کرتا رہا۔۲۔اس نے خود دعوئی مہدویت بھی نہیں کیا۔البتہ بعض لوگوں نے اسے مہدی قرار دیا جیسا کہ لکھا ہے۔فقام اليه عشرة رجال احدهم عبدالمومن فقالوا لا يوجد الا فيك فانت المهدى“ (كامل ابن الاثير جلد ۱ صفحه ۲۰۲) یعنی اس کے دس ساتھی ہو گئے جن میں سے ایک عبدالمومن تھا۔انہوں نے اسے کہا کہ تیرے سوا مہدی کی صفات اور کسی میں پائی نہیں جاتیں۔لہذا تو ہی مہدی ہے۔اگر اس کا دعوی مہدویت ثابت ہو بھی جائے تب بھی وہ لو تقول والی آیت کے تحت نہیں آسکتا جب تک کہ جھوٹے الہام یا وحی کا مدعی نہ ہو۔اور اس کی کسی کتاب سے اس کے الہام یا وحی کو ثابت نہ کیا جائے۔- عبد المومن ابن تو مرت کو عبدالمومن نے مہدی قرار دیا اور عبدالمومن کو ابن تو مرت نے اپنا جانشین بنا لیا۔گویا ”من ترا حاجی بگویم تو مرا ما بگو والا معاملہ ہے۔محض خلیفہ یا جانشین کہلا نازیر بحث نہیں آ سکتا جب تک کہ دعوی الهام و وحی مع جمله شرائط آیت مذکورہ پیش نہ کی جائیں۔لہذا عبد المومن کا ذکر بھی اس ذیل میں بے تعلق ہے۔-۴- صالح بن طریف ا۔صالح بن طریف نے اپنا کوئی الہام پیش نہیں کیا لہذا ” لو تقول “ نہ ہوا۔۲۔اس نے محض خیال کیا تھا کہ خود مہدی ہے:۔ثم زعم انه المهدى الذى يخرج في آخر الزمان