حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 142
142 ہوئے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔بھلا اگر یہ سچ ہے کہ ان لوگوں نے نبوت کے دعوے کئے اور تئیس برس تک ہلاک نہ ہوئے تو پہلے ان لوگوں کی خاص تحریر سے ان کا دعویٰ ثابت کرنا چاہئے۔اور وہ الہام پیش کرنا چاہئے جو الہام انہوں نے خدا کے نام پر لوگوں کو سنایا۔یعنی یہ کہا کہ ان لفظوں کے ساتھ میرے پر وحی نازل ہوئی ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔اصل لفظ ان کی وحی کے کامل ثبوت کے ساتھ پیش کرنے چاہئیں۔کیونکہ ہماری تمام بحث وحی نبوت میں ہے جس کی نسبت یہ ضروری ہے کہ بعض محکمات پیش کر کے یہ کہا جائے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ہمارے پر نازل ہوا ہے۔“ تمہ اربعین۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۴۷۷) اس کے بعد ۶ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو ایک اشتہار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو موصول ہوا جو حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار نہر کی طرف سے آپ کے نام شائع کیا گیا تھا۔اس رسالہ میں حافظ صاحب نے حضور کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ:۔میں ایک دفعہ زبانی اس بات کا اقرار کر چکا ہوں کہ جن لوگوں نے نبی یا رسول یا اور کوئی مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا تو وہ لوگ ایسے افتراء کے ساتھ جس سے لوگوں کو گمراہ کرنا مقصود تھا تئیس برس تک ( جو آنحضرت ﷺ کے ایام بعثت کا زمانہ ہے) زندہ رہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور پھر حافظ صاحب اپنے اسی اشتہار میں لکھتے ہیں۔ان کے اس قول کی تائید میں ان کے دوست ابو سحاق محمد دین نام نے قطع و تین“ نام ایک رسالہ بھی لکھا تھا جس میں مدعیان کاذب کے نام معہ مدت دعوی تاریخی کتابوں کے حوالہ سے درج ہیں۔( بحوالہ تحفہ الندوہ۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۹۴٬۹۳)