حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 138
138 افتراء ہوتا تو کب کا تباہ ہو جاتا۔کیا کسی ایسے مفتری کا نام بطور نظیر پیش کر سکتے ہو جس کو افتراء اور دعویٰ ولی اللہ کے بعد میری طرح ایک زمانہ دراز تک مہلت دی گئی ہو۔وہ مہلت جس میں آج تک بقدر زمانہ وحی محمدی صلی اللہ علیہ وسلم یعنی قریبا چوبیس برس گزر گئے اور آئندہ معلوم نہیں کہ ابھی کس قدر ہیں۔اگر پیش کر سکتے ہو تو تمہیں خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ ایسے مفتری کا نام لو اور اس شخص کی مدت افتراء کا جس قدر زمانہ ہواس کا میرے زمانہ بعث کی طرح تحریری ثبوت دو اور لعنت اس شخص پر جو مجھے جھوٹا جانتا ہے اور پھر یہ نظیر مع ثبوت پیش نہ کرے۔وَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ اور ساتھ اس کے یہ بھی بتلاؤ کہ کیا تم کسی ایسے مفتری کو بطور نظیر پیش کر سکتے ہو جس کے کھلے کھلے نشان تحریر اور ہزاروں شہادتوں کے ذریعہ سے میری طرح بپایہ ثبوت پہنچ چکے ہوں۔“ ے۔پھر فرمایا۔مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحه ۳۶۸، ۳۶۹) اگر یہ بات صحیح ہے کہ کوئی شخص نبی یا رسول اور مامور من اللہ ہونے کا دعوی کر کے اور کھلے کھلے طور پر خدا کے نام پر کلمات لوگوں کو سنا کر پھر باوجود مفتری ہونے کے برابر تیمیس برس تک جو زمانہ وحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے زندہ رہا تو میں ایسی نظیر پیش کرنے والے کو بعد اس کے کہ مجھے میرے ثبوت کے موافق یا قرآن کے ثبوت کے موافق ثبوت دے دے پانسور و پیہ نقد دوں گا۔اور اگر ایسے لوگ کئی ہوں تو ان کو اختیار ہوگا کہ وہ روپیہ باہم تقسیم کر لیں۔اس اشتہار کے نکلنے کی تاریخ سے پندرہ روز تک ان کو مہلت ہے۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑو یہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۵۱)