حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 133 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 133

133 افترای علی اللہ کے متعلق چیلنج قرآن کریم اور تقریبا تمام گزشتہ آسمانی کتب سے یہ امر ثابت ہے کہ جو شخص جھوٹی نبوت کا دعوی کر کے خدا تعالیٰ کی طرف جھوٹی وجی اور الہام منسوب کرے وہ کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا بلکہ جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔چنانچہ استثناء میں لکھا ہے۔” جو نبی ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے حکم نہیں دیا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے گا۔“ (استثناء۔۱۸/۲۰) مفتری کی ہلاکت کے متعلق سر میاہ باب ۱۴ آیت ۱۵ میں لکھا ہے۔خداوند یوں کہتا ہے ان نبیوں کی بابت جو میرا نام لے کے نبوت کرتے ہیں جنہیں میں نے نہیں بھیجا اور جو کہتے ہیں کہ تلوار اور کال اس سرزمین پر نہ ہوگا۔نہ نبی تلوار اور کال سے ہلاک کئے جائیں گے۔“ (برمیاه ۱۴/۱۵) جھوٹے نبیوں اور ان کے انجام کے متعلق حز قیل نبی نے کہا:۔” خداوند یہوداہ کہتا ہے کہ میں تمہارا مخالف ہوں اور میرا ہاتھ ان نبیوں پر جو دھوکا دیتے ہیں اور جھوٹی غیبت دانی کرتے ہیں چلے گا۔وہ میرے لوگوں کے مجمع میں 66 داخل نہ ہوں گے۔( حز قیل ۸-۱۳/۹) اسی طرح سر میاہ نبی نے فرمایا۔وو رب الافواج نبیوں کی مانند یوں کہتا ہے کہ دیکھ میں انہیں نا گدونا کھلاؤں گا۔اور ہلاہل کا پانی پلاؤں گا۔کیونکہ یروشلم کے نبیوں کے سبب ساری سرزمین میں بے دینی پھیلی ہے۔“ رمیاه ۹/۱۵)