حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 129
129 گا اور ۲۷ رمضان کو سورج گرہن ہوگا اور باوجود اس کے یہ ایک ایسا بیان ہے کہ اس میں دار قطنی کے بیان میں سوچنے والوں کی نگاہ میں کچھ زیادہ فرق نہیں کیونکہ دارقطنی کی عبارت ایک صریح بیان اور قرینہ واضحہ صحیحہ کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ چاند گرہن رمضان کی پہلی تاریخ میں ہرگز نہیں ہوگا اور کوئی صورت نہیں کہ پہلی رات واقع ہو کیونکہ اس عبارت میں قمر کا لفظ موجود ہے اور اس نیر پر تین رات تک قمر کا لفظ بولا نہیں جاتا بلکہ تین رات کے بعد اخیر مہینہ تک قمر بولا جاتا ہے اور قمر اس واسطے نام رکھا گیا کہ وہ خوب سفید ہوتا ہے اور تین رات سے پہلے ضرور ہلال کہلاتا ہے اور اس میں کسی کو کلام نہیں اور یہ وہ امر ہے جس پر تمام اہل عرب کا اس زمانہ تک اتفاق ہے اور کوئی اہل زبان میں سے اس کا مخالف نہیں اور نہ انکاری۔۔۔۔۔اور اگر تجھے شک ہو تو قاموس اور تاج العروس اور صحاح اور ایک بڑی کتاب مستمی لسان العرب اور ایسا ہی تمام کتب لغت اور ادب اور شاعروں کے شعر اور قدماء کے قصیدے غور سے دیکھے اور ہم ہزار روپیہ انعام تجھ کو دیں گے اگر تو اس کے برخلاف ثابت کر سکے۔“ ( ترجمہ از عربی عبارت۔نورالحق حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۹۷ تا ۱۹۹) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے جب یہ چیلنج دیا کہ کسی ایسے مدعی کی نظیر پیش کی جائے جس کی صداقت کے اظہار کے لئے ایسا کسوف و خسوف وقوع پذیر ہوا ہو تو اس کے جواب میں بعض مخالفین نے بعض ایسے مدعیان کے نام پیش کئے ہیں جن کے دعوی کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں حدیث میں بیان فرمودہ تاریخوں کے مطابق کسوف و خسوف ظہور پذیر ہوا۔مگر محض ایسے مدعیان پیش کر دینے سے کیا بنتا ہے جب تک ان میں سے کسی ایسے مدعی کا دعوئی اس کی اپنی کتاب سے پیش نہ کیا جائے اور نیز یہ ثابت نہ کیا جائے کہ اس نے کسوف و خسوف کے نشان کو اپنے دعوی کی صداقت کیلئے پیش بھی کیا تھا جیسا کہ حضرت بانی سلسلہ احمد یہ اپنی کتاب