حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 130 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 130

130 چشمہ معرفت میں تحریر فرماتے ہیں۔"پس جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ پہلے بھی کئی دفعہ خسوف کسوف ہو چکا ہے اس کے ذمہ یہ ثبوت ہے کہ وہ ایسے مدعی مہدویت کا پتہ دے جس نے اس کسوف و خسوف کو اپنے لئے نشان ٹھہرایا ہو اور یہ ثبوت یقینی اور قطعی ہونا چاہئے اور یہ صرف اس صورت میں ہوگا کہ ایسے مدعی کی کوئی کتاب پیش کی جائے جس نے مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور نیز یہ لکھا ہو کہ خسوف کسوف جو رمضان میں دار قطنی کی مقررہ تاریخوں کے موافق ہوا ہے وہ میری سچائی کا نشان ہے۔غرض صرف خسوف کسوف خواہ ہزاروں مرتبہ ہوا ہو اس سے بحث نہیں۔نشان کے طور پر ایک مدعی کے وقت صرف ایک دفعہ ہوا ہے اور حدیث نے ایک مدعی مہدویت کے وقت میں اپنے مضمون کا وقوع ظاہر کر کے اپنی صحت اور سچائی کو ثابت کر دیا۔“ چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۳۰،۲۳۹ ح ) مگر آج تک ایسی نظیر کسی مخالف کو پیش کرنے کی توفیق نہ مل سکی۔پس یہ نشان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔