حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 95
95 شوکت ظاہر کرنے والے ہوں۔اور کتاب کے آخر میں سو شعر لطیف و بلیغ عربی میں نعت اور مدح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں بطور قصیدہ درج ہوں اور جس بحر میں وہ شعر ہونے چاہئیں وہ بحر بھی بطور قرعہ اندازی کے اسی جلسہ میں تجویز کیا جائے اور فریقین کو اس کام کیلئے چالیس دن کی مہلت دی جائے۔اور چالیس دن کے بعد جلسہ عام میں فریقین اپنی اپنی تفسیر اور اپنے اپنے اشعار جو عربی میں ہوں گے سنا دیں۔پھر اگر یہ عاجز شیخ محمدحسین بٹالوی سے حقائق ومعارف کے بیان کرنے اور عبارت عربی فصیح و بلیغ اور اشعار آبدار مدحیہ کے لکھنے میں قاصر اور کم درجہ پر رہا۔یا یہ کہ شیخ محمد حسین اس عاجز سے برابر رہا تو اسی وقت یہ عاجز اپنی خطا کا اقرار کرے گا اور اپنی کتابیں جلا دے گا۔“ و آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن نمبر ۵ صفحه ۶۰۳٬۶۰۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تفسیر نویسی کے چیلنج کو اس کے بعد بھی بار بار دہرایا مگر مولوی صاحب کو اس مقابلہ کی توفیق نہ مل سکی۔پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو تفسیر نویسی کے مقابلہ کی دعوت پیر مہر علیشاہ گولڑوی راولپنڈی سے چند میل کے فاصلہ پر واقع بستی گولڑہ شریف کے سجادہ نشین تھے۔سرحدی علاقہ میں یہ پیر صاحب کافی شہرت رکھتے تھے اور صوفیاء کے چشتی سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے۔پیر صاحب ابتداء میں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں حسن ظن اور عقیدت کے جذبات رکھتے تھے لیکن بعد میں جب اپنے بعض عقیدت مندوں میں مسیح موعود علیہ السلام کی طرف میلان دیکھا تو اس خطرے کے پیش نظر کہ آپ کے مرید آپ کو چھوڑ کر مرزا صاحب کے حلقہ احباب میں شامل نہ ہو جائیں جس سے آپ کی پیری مریدی متاثر ہوسکتی ہے۔آپ بھی دیگر علماء ومشائخ کی طرح مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے اور حضرت اقدس کے دعاوی کے