حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 86
86 فصیح و بلیغ ثابت ہوا تو میرا دعویٰ باطل ہو جائے گا۔میں اب بھی اقرار کرتا ہوں کہ بالمقابل تفسیر لکھنے کے اگر تمہاری تغییر لفظاً ومعنا اعلیٰ ثابت ہوئی اس وقت اگر تم میری تفسیر کی غلطیاں نکالوتو فی غلطی پانچ روپے انعام دوں گا۔غرض بیہودہ نکتہ چینی سے پہلے یہ ضروری ہے بذریعہ تفسیر عربی اپنی عربی دانی ثابت کرو۔کیونکہ جس فن میں کوئی شخص دخل نہیں رکھتا اس فن میں اس کی نکتہ چینی قبول کے لائق نہیں ہوتی۔ادیب جانتے ہیں کہ ہزار ہا فقرات میں سے اگر دو چار فقرات بطور اقتباس ہوں تو ان سے بلاغت کی طاقت میں کچھ فرق نہیں بلکہ اس طرح کے تصرفات بھی ایک طاقت ہے۔دیکھو سبع معلقہ کے دوشاعروں کا ایک مصرع پر تو ارد ہے اور وہ یہ ہے۔ایک شاعر کہتا ہے يقولون لا تهلک اسی و تجمل اور دوسرا شاعر کہتا ہے یقولون لا تهلک اسی و تجلد اب بتاؤ کہ ان دونوں میں سے چور کون قرار دیا جائے۔نادان انسان کو اگر یہ بھی اجازت دی جائے کہ وہ چرا کر ہی لکھے تب بھی وہ لکھنے پر قادر نہیں ہوسکتا کیونکہ اصلی طاقت اس کے اندر نہیں۔مگر وہ شخص جو مسلسل اور بے روک آمد پر قادر ہے اس کا تو بہر حال یہ معجزہ ہے کہ امور علمیہ اور حکمیہ اور معارف اور حقائق کو بلا توقف رنگین اور بلیغ و فصیح عبارتوں میں بیان کر دے۔“ نزول المسیح - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه۴۳۲ تا ۴۴۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تجویز کہ میرے مخالف ”میرے مقابل تفسیر لکھنے کیلئے ایک مجلس میں بیٹھ جاتے تا دروغ گو بے حیا کا منہ ایک ہی ساعت میں سیاہ ہوجاتا“ ایسی تجویز ہے جس میں معترضین کے تمام اعتراضات لغو اور باطل ہو جاتے ہیں۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فی الواقع عربی زبان کا علم نہ رکھتے اور دوسروں سے لکھواتے اور اپنے نام پر شائع کرتے