حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 85
85 حکمیہ پر مشتمل ہیں بغیر ایک کامل علمی وسعت کے کیونکر انسان ان کو انجام دے سکتا ہے۔کیا یہ تمام علمی کتا بیں حریری یا ہمدانی کے سرقہ سے تیار ہوگئیں اور ہزار ہا معارف اور دقائق دینی اور قرآنی جو ان کتابوں میں لکھے گئے ہیں وہ حریری اور ہمدانی میں کہاں ہیں۔اس قدر بے شرمی سے منہ کھولنا کیا انسانیت ہے؟ یہ لوگ اگر کچھ شرم رکھتے تو شرمندگی سے جیتے ہی مر جائیں کہ جس شخص کو جاہل اور علم عربی سے قطعاً بے خبر کہتے تھے اس نے تو اس قدرکتا ہیں فصیح و بلیغ عربی میں تالیف کر دیں مگر خود ان کی استعداد اور لیاقت کا یہ حال ہے کہ قریباً دس برس ہونے لگے برابر ان سے مطالبہ ہو رہا ہے کہ ایک کتاب ہی بالمقابل ان کتابوں کے تالیف کر دکھلائیں مگر کچھ نہیں کر سکے۔صرف مکہ کے کفار کی طرح یہی کہتے ہیں کہ لو شئنا لقلنا مثل ه۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر علمی اور دینی کتابیں جو ہزار ہا معارف اور حقائق پر مندرج ہوتی ہیں صرف فرضی افسانوں کی عبارتوں کے سرقہ سے تالیف ہو سکتی ہیں تو اس وقت تک کس نے آپ لوگوں کا منہ بند کر رکھا ہے؟ کیا ایسی کتابیں بازاروں میں ملتی نہیں ہیں جن سے سرقہ کر سکوں؟ ان لعنتوں کو کیوں آپ لوگوں نے ہضم کیا جو درحالت سکوت ہماری طرف سے آپ کے نذر ہوئیں اور کیوں ایک سورۃ کی بھی تفسیر عربی تالیف کر کے شائع نہ کر سکے تا دنیا دیکھتی کہ کس قدر آپ عربی دان ہیں۔اگر آپ کی نیت بخیر ہوتی تو میرے مقابل تفسیر لکھنے کیلئے ایک مجلس میں بیٹھ جاتے تا دروغ گو بے حیا کا منہ ایک ہی ساعت میں سیاہ ہو جاتا۔خیر تمام دنیا اندھی نہیں ہے۔آخر سوچنے والے بھی موجود ہیں۔ہم نے کئی دفعہ اشتہار بھی دیئے کہ تم ہمارے مقابلہ پر کوئی عربی رسالہ لکھو۔پھر عربی زبان جاننے والے اس کے منصف ٹھہرائے جائیں گے۔پھر اگر تمہارا رسالہ