حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 62
62 کے مقابل پر جس کو دہ بغیر کسی کمی بیشی اور تصرف کے حاضرین کو سُنا دیں گے۔پیر صاحب کے جوابات سُنا دیں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہیں کہ یہ جوابات صحیح ہیں اور دلیل پیش کردہ کی قلع قمع کرتے ہیں تو میں مبلغ پچاس روپیہ انعام بطور فتحیابی پیر صاحب کو اسی مجلس میں دے دونگا۔مگر یہ پیر صاحب کا ذمہ ہوگا کہ وہ مولوی محمد حسین صاحب کو ہدایت کریں کہ تا وہ مبلغ پچاس روپیہ اپنے پاس بطور امانت جمع کر کے با ضابطہ رسید دیدیں اور مندرجہ بالہ طریق کی پابندی سے قسم کھا کر ان کو اختیار ہوگا کہ وہ بغیر میری اجازت کے پچاس روپیہ پیر صاحب کے حوالہ کر دیں۔قسم کھانے کے بعد میری شکایت اُن پر کوئی نہیں ہوتی۔صرف خدا پر نظر ہوگی جس کی وہ قسم کھائیں گے۔پیر صاحب کا یہ اختیار نہیں ہوگا کہ یہ فضول عذرات پیش کریں کہ میں نے پہلے سے رڈ کرنے کے لئے کتاب لکھی ہے۔کیونکہ اگر انعامی رسالہ کا انہوں نے جواب نہ دیا تو بلا شبہ لوگ سمجھ جائیں گے کہ وہ سیدھے طریق سے مباحثات پر بھی قادر نہیں۔المشتہر مرزا غلام احمد از قادیان یکم نمبر ۱۹۰۲ء (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۳۶) اعجاز احمدی مدضلع امرتسر میں ۲۹، ۳۰ اکتو بر ۱۹۰۲ء کو مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور مولوی ثناء اللہ امرتسری کے درمیان ایک مباحثہ ہوا جس کے بعد حضرت اقدس نے مولوی ثناء اللہ امرتسری کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کا تحریری جواب دینا مناسب خیال فرمایا۔چنانچہ ۸/نومبر ۱۹۰۲ء سے ۱۲ نومبر ۱۹۰۲ ء تک صرف پانچ روز میں یہ کتاب مکمل کر لی۔اس کتاب میں حضور نے محض خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت سے عربی زبان میں ایک طویل قصیدہ بھی درج فرمایا ہے جس میں مذکور مباحثہ کا ذکر کیا گیا ہے۔حضور فرماتے ہیں۔