حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page vii
حرف آغاز اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ:۔كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنٌ أَنَا وَرُسُلِي۔(المجادلة : ۲۲) یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر چھوڑا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔یہ آیت کریمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک زبردست ثبوت ہے۔جب آپ نے مسیح موعود و مہدی معہود ہونے کا دعویٰ فرمایا تو سنت اللہ کے موافق آپ کی مخالفت شروع ہو گئی۔اور ظاہر بین علماء نے آپ کے دعویٰ پر طرح طرح کے اعتراضات کرنے شروع کر دیے۔اس طرح آپ کے اور مخالفین کے درمیان گویا ایک علمی و روحانی جنگ چھڑ گئی۔چنانچہ آپ نے جہاں اپنے دعوی کی تائید میں سینکڑوں عقلی ونقلی دلائل پیش فرمائے۔وہاں حق و باطل میں امتیاز کیلئے اپنے مخالفین کو علمی و روحانی میدان میں مقابلہ کے ہزاروں روپے انعامات پر مبنی سینکڑوں چیلنج بھی دیئے۔مگر آج تک مخالفین کو کسی ایک چیلنج کو توڑنے کی توفیق نہیں مل سکی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ چیلنج ہمارے لئے ایک بہت بڑا روحانی سرمایہ ہیں نیز از دیاد ایمان کا ذریعہ ہیں۔چنانچہ اسی سوچ اور ضرورت کے