حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 32
32 مسئلہ حیات و وفات مسیح کے متعلق دیگر چیلنج اتمام الحجہ میں فرمایا:۔چار طور کے دلائل سے حیات مسیح ثابت کرنے کا چیلنج " فمن ادعى ان عيسى بقى منهم حيا وما دخل في الموتى فقد استثنر فعليه ان يثبت هذا الدعوى وانت تعلم ان الادلة عندالحنيفيين لا ثبات ادعاء المدعين اربعة انواع كما لا يخفى على المتفقهين۔الاول قطعي الثبوت والدلالة و ليس فيها شي من الضعف والكلالة كالأيات القرانية الصريحة والاحاديث المتواترة الصيحة بشرط كونها مستغنية من تاويلات المأولين ومنزهة عن تعارض و تناقض يوجب الضعف عند المحققين۔الثاني قطعي الثبوت ظنّى الدلالة كالا يات والاحاديث المأ ولة مع تحقق الصحة والاصالة۔الثالث ظنّى الثبوت قطعى الدلالة كالاخيار الاحاد الصريح مع قلة القوة وشئ من الكلالة۔الرابع ظني الثبوت والدلالة كا لاخبار الاحاد المتحملة لاماني والمشتبهة اتمام الحجة - روحانی خزائن نمبر ۸ صفحه ۲۸۲) ترجمہ: پس جو کوئی یہ دعویٰ کرے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں اور ابھی تک وفات یافتگان میں شامل نہیں ہوئے اور وہ موت سے مستفی ہیں تو اُس کو چاہیئے کہ وہ اپنے اس دعوی کو ثابت کرے اور تو جانتا ہے کہ حنفیوں کے نزدیک کسی مدعی کے دعویٰ کو چار قسم کے دلائل سے ثابت کیا جاتا ہے جیسا کہ فقہاء پر یہ امرتی نہیں ہے۔ا۔ایسا قطعی ثبوت اور دلیل جس میں کسی قسم کی کمزوری نہ پائی جائے۔اور وہ قرآنی آیات کی طرح واضح ہو اور ہر قسم کے تعارض اور تناقض سے محققین کے نزدیک پاک اور منز ہ ہو۔