حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 392 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 392

392 اول یہ کہ شیخ مذکور ہر ایک صاحب سے جو ذکر کئے گئے ہیں حلفی رقعہ طلب کرے جس میں قسم کھا کر میرے بیان کا انکار کیا ہو اور جب ایسے حلفی رقعے جمع ہو جائیں تو ایک جلسہ بمقام بٹالہ کر کے مجھ کو طلب کرے۔میں شوق سے ایسے جلسہ میں حاضر ہوں گا۔میں ایسے شخص کو دیکھنا چاہتا ہوں جس نے حلفاً اپنے رقعہ میں یہ بیان کیا ہو کہ محمد حسین نے کرسی نہیں مانگی اور نہ اس کو کوئی جھٹر کی ملی بلکہ عزت کے ساتھ کرسی پر بٹھایا گیا۔شیخ مذکور کو خوب یاد ہے کہ کوئی شخص اس کے لئے اپنا ایمان ضائع نہیں کرے گا اور ہرگز ہرگز ممکن نہ ہو گا کہ کوئی شخص اشخاص مذکورین میں سے اس کے دعوئی باطل کی تائید میں قسم کھاوے۔واقعات صحیحہ کو چھپانا بے ایمانوں کا کام ہے۔پھر کیونکر کوئی معزز شیخ بٹالوی کے لئے مرتکب اس گناہ کا ہوگا۔اور اگر شیخ بٹالوی کو یہ جلسہ منظور نہیں تو دوسرا طریق تصفیہ یہ ہے کہ بلا توقف ازالہ حیثیت عرفی میں میرے پر نالش کرے کیونکہ اس سے زیادہ اور کیا ازالہ حیثیت عرفی ہوگا کہ عدالت نے اس کو کرسی دی اور میں نے بجائے کرسی جھڑکیاں بیان کیں۔اور عدالت نے قبول کیا کہ وہ اور اس کا باپ کرسی نشین رئیس ہیں اور میں نے اس کا انکار کیا۔اور استغاثہ میں وہ یہ لکھا سکتا ہے کہ مجھے عدالت ڈگلس صاحب بہادر میں کرسی ملی تھی اور کوئی جھٹر کی نہیں ملی اور اس شخص نے عام اشاعت کر دی ہے کہ مانگنے پر بھی کرسی نہیں ملی بلکہ جھڑکیاں ملیں۔اور ایسا ہی استغاثہ میں یہ بھی لکھا سکتا ہے کہ مجھے قدیم سے عدالت میں کرسی ملتی تھی اور ضلع کے کرسی نشینوں میں میرا نام بھی درج ہے اور میرے باپ کا نام بھی درج تھا لیکن اس شخص نے اس سب باتوں سے انکار کر کے خلاف واقعہ بیان کیا ہے۔پھر عدالت خود تحقیقات کر لے گی کہ آپ کو کرسی کی طلب کے وقت کرسی ملی تھی یا جھڑ کیاں ملی تھیں اور دفتر سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ اور آپ کے والد صاحب کب سے کرسی